مَحبتوں کی مَحبت بھی تو ہے، سب کچھ تُو
تمام حُسن کی غایت بھی تو ہے، سب کچھ تُو مرے قریں بھی مقابل بھی، جاں بھی، بالا بھی نہایتوں کی نہایت بھی تو ہے، سب کچھ تُو خدا بھی، عشق بھی، رازق بھی، پھر محاسب بھی جمالِ جان بھی، غیرت بھی تو ہے، سب کچھ تُو کمالِ خلق بھی، خلقت کا حشر ساماں بھی […]