لکھوں پہلے حمدِ علیِ عظیم

علیمٌ حکیمٌ رحیمٌ کریم بدیع السمٰوات و الارض ہے عبادت اسی کی فقط فرض ہے وہی واجب و خالقِ ممکنات کہا اس نے کُن، ہو گئی کائنات نہیں کوئی موجود اس کے سوا نہیں کوئی معبود اس کے سوا اسی سے وجود اور اسی سے عدم اسی سے حدوث اور اسی سے قدم اسی کے […]

اے کہ ترے وجود پر خالقِ دو جہاں کو ناز​

اے کہ ترا وجود ہے ۔وجہِ وجودِ کائنات​ اے کہ ترا سرِ نیاز حدِّ کمالِ بندگی اے کہ ترا مقامِ عشق قربِ تمام عینِ ذات​ خوگر بندگی جو تھے تیرے طفیل میں ہوئے​ مالکِ مصر و کاشغر وارثِ دجلہ و فرات​ تیرے بیاں سے کھل گئیں ، تیرے عمل سے حل ہوئیں منطقیوں کی اُلجھنیں […]

سُتوں کی دیکھ کر حالت صحابہ سر بسر روئے

تمامی حاضرانِ مجلسِ خیر البشر روئے رُلائے جب کہ چوبِ خشک کو حضرت کی مہجوری کہو پھر عین غیرت سے نہ کیوں کر ہر بشر روئے سنی جب اس ستونِ عاشقِ بے تاب کی زاری رسول اللہ کے اصحاب کہیے ، کس قدر روئے کوئی ایسا نہ تھا اس بزم میں جس پر نہ تھی […]

دردِ غم سے دل مِرا ہو جائے خالی، الغیاث!

دردِ غم سے دل مِرا ہو جائے خالی، الغیاث دیکھ لوں گر روضہء عالی کی جالی ، الغیاث ہے یہی مرہم مِرا اِس سینہ ء صد چاک کا ہے یہی کافی علاجِ اندمالی ،الغیاث یا شفیع المذنبیں یا رحمت للعالمیں خاص محبوبِ خدا سلطانِ عالی ، الغیاث آج تک پیدا ہوا تم سا ، نہ […]

خوابِ دیرینہ کو مولیٰ تو حقیقت کردے

جاؤں طیبہ تو وہیں سے مجھے رخصت کردے ترے محبوب کا یارب میں پڑوسی بن جاؤں دور افتادہ کو تو صاحب قربت کردے مالکِ زیست ہے تو تیرے لیے کیا مشکل موت کو میرے لیے باعثِ برکت کردے کردے پیوند زمیں یوں کہ فلک رشک کرے اپنی قدرت سے تو اونچی میری قسمت کردے تائب […]

صبا کو کس نے چمن میں سبک خرام کیا

سحر کے وقت ستاروں کو ہم کلام کیا ترے ہی عشق نے بخشی ہے اس کو آزادی جبھی تو دل نے خرد کو بھی زیرِ دام کیا بدلتے رہتے ہیں شام و سحر سبھی موسم کہ گردشوں کو ازل سے یونہی مدام کیا لکھی ہیں کس نے یہ آبِ رواں پہ تحریریں ہر ایک قطرہ […]

اک نور سا تا حد نظر پیشِ نظر ہے​

میں اور مدینے کا سفر پیشِ نظر ہے​ ہر چند نہیں تاب مگر دیکھیے پھر بھی​ وہ مطلع انوارِ سحر پیشِ نظر ہے​ جو میرے تخیل کے جھروکے میں کہیں تھا​ صد شکر وہ مقصودِ نظر پیشِ نظر ہے​ بخشش کا وسیلہ ہے ہر اک اشکِ ندامت​ کچھ خوف ہے باقی ، نہ خطر پیشِ […]

کیا خبر کیا سزا مجھ کو ملتی ، میرے آقا نےعزت بچالی

فردِ عصیاں مری مجھ سے لے کر، کالی کملی میں اپنی چھپالی وہ عطا پر عطا کرنے والے اور ہم بھی نہیں ٹلنے والے جیسی ڈیوڑھی ہے ویسے بھکاری، جیسا داتا ہے ویسے سوالی میں گدا ہوں مگر کس کے در کا؟ وہ جو سلطان کون و مکاں ہیں یہ غلامی بڑی مستند ہے، میرے […]

چاند گر آپ کے تلووں کا نظارہ کرلے

دعوئ حسن سے پھر خود ہی کنارہ کرلے اک طرف پائے شہ دیں کو اٹھا کر رکھ دوں دوسری اور تو کنعان ہی سارا کرلے تجھ کو گر حسن حقیقت کی طلب ہے خورشید ان کی چوکھٹ کو ذرا جاکے بہارا کرلے روسیہ ہو کے بھی گر حسن کا طالب ہے تو حسن بے مثل […]

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی تم سا تو حسیں آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی یہ شانِ لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی اے ظرفِ نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے سرکار کا جلوہ ہے تماشا نہیں کوئی یہ تجربہ ایمان ہے اے رحمتِ عالم فریاد تمہارے سوا سنتا نہیں کوئی یہ طُور سے […]