کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا

کہ جو میرے غم میں گھلا کیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا جو جمالِ روئے حیات تھا، جو دلیلِ راہِ نجات تھا اسی رہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا میں ترے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا ترے دشمنوں نے ترے چمن میں خزاں کا جال بچھا […]

حسن دھرتی پہ ہی خلد کا دیکھ لے

چل مدینے کی نوری فضا دیکھ لے دیکھنا ہے اگر جلوۂ مصطفٰی کھول کر سورۂ و الضحٰی دیکھ لے دردِ فرقت میں ہے زندگی کا مزہ دردِ فرقت کا لے کے مزہ دیکھ لے اب تڑپنا بھی کیا اے مری چشمِ نم سامنے وہ ہے گنبد ہرا دیکھ لے مشعلِ راہ کی گر ہے حاجت […]

شوقِ بے حد، غمِ دل ، دیدہ تر مل جائے

مجھ کو طیبہ کے لیے رختِ سفر مل جائے نامِ احمد کا اثر دیکھ جب آئے لب پر چشمِ بے مایہ کو آنسو کا گُہر مل جائے چشمِ خیرہ نگراں ہے رُخِ آقا کی طرف جیسے خورشید سے ذرے کی نظر مل جائے یادِ طیبہ کی گھنی چھاوں ہے سر پر میرے جیسے تپتی ہوئی […]

بہت ہی لُطف آتا تھا پڑے رہ کرمدینے میں

بڑا ہی خوشنُما لگتا تھا ہر منظر مدینے میں وہاں کے پھول کیا کانٹے بھی تھے خوشتر مدینے میں بلالو پھر مجھے اے شاہِ بَحر و بَر مدینے میں ’’ میں پھر روتا ہوا آؤں ترے در پر مدینے میں‘​‘​ مرے اللہ نے رکّھا ہے وہ جوہر مدینے میں سُکون و چین ملتا ہے تو […]

کوئی ہم پایہ ، نہ ثانی ترا کونین میں ہے

تجھ سا بے سایہ نظر آیا نہ دارین میں ہے عین ملتا ہے جو رب سے تو عرب بنتا ہے اک حقیقت ہے جو پوشیدہ اسی عین میں ہے سر تو بس حکم پہ جھکتا ہے سوئے بیت حرم سجدہ دل رخِ محبوب کے قوسین میں ہے عرشِ اعلیٰ کا بھی اعزاز بڑھا ہے ان […]

یہ کہتی ہیں فضائیں، زندگی دو چار دن کی ہے

مدینہ دیکھ آئیں، زندگی دو چار دن کی ہے سنہری جالیوں کو چُوم کر کچھ عرض کرنا ہے مچلتی ہیں دُعائیں، زندگی دو چار دن کی ہے غمِ انساں کی اِک صُورت عبادت خیز ہوتی ہے کِسی کے کام آئیں، زندگی دوچار دن کی ہے وہ راہیں ثبت ہیں جن پر نشاں پائے محمد کے […]

اے کاش وہ دن کب آئیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں گے

دامن میں مرادیں لائیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں گے بیتابی الفت کی دھن میں ہم دیدہ ودل کے بربط پر توحید کے نغمے گائیں گے جب ہم مدینہ جائیں گے تھامیں گے سنہری جالی کو چومیں گے معطر پردوں کو قسمت کو ذرا سلجھائیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں‌گے زم زم میں […]

در سے غلام آپ کے سر کو اٹھائے کس طرح​

چھوڑ کے آپ کا دیار جائیں تو جائیں کس طرح​ آنکھ کو گر منا لیا ، دل کو منائیں کس طرح​ فصل بہار لٹ چکی پھول کھلائیں کس طرح​ چوم کے خاک طیبہ ہم بھول گئے تھے سارے غم پھر سے غم حیات میں دل کو پھسائیں کس طرح​ آپ کے در کی حاضری اہل […]

یا صاحب الجمال و یا سید البشر

یا صاحب الجمال و یا سید البشر من وجہک المنیر و لقد نور القمر لا یمکن الثناء کما کان حقہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ترجمہ اے صاحب الجما ل اور اے انسانوں کے سردار آپ کے رخِ انور سے چاند چمک اٹھا آپ کی ثنا کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں […]