کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا
کہ جو میرے غم میں گھلا کیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا جو جمالِ روئے حیات تھا، جو دلیلِ راہِ نجات تھا اسی رہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا میں ترے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا ترے دشمنوں نے ترے چمن میں خزاں کا جال بچھا […]