دیکھ اے دل! یہ کہیں مژدہ کوئی لائی نہ ہو

اُس دیارِ پاک سے چل کر صبا آئی نہ ہو راہِ طیبہ میں خیالِ ہوش و دانائی نہ ہو کیا سفر کا لطف جب تک بے خودی چھائی نہ ہو اُن کا جلوہ ہو ، ہمارے قلب کا آئینہ ہو اور کوئی دوسری صورت سے رعنائی نہ ہو دل نے جب حُسنِ عقیدت سے کیا […]

دل میں کسی کو اور بسایا نہ جائے گا

ذکرِ رسولِ پاک بُھلایا نہ جائے گا وہ خود ہی جان لیں گے ، جتایا نہ جائے گا ہم سے تو اپنا حال سُنایا نہ جائے گا ہم کو جزا مِلے گی محمد کے عشق کی دوزخ کے آس پاس بھی لایا نہ جائے گا روشن رہے گا داغِ فراقِ شہِ اُمَم یہ وہ چراغ […]

جُود وعطا میں فرد،وہ شاہِ حجاز ہے

جُود و عطا میں فرد ، وہ شاہِ حجاز ہے سب پر کرم ہے ، اور بِلا امتیاز ہے قلبِ زمیں میں ، شہرِ مدینہ وہ راز ہے انساں تو کیا ، فرشتوں کو بھی جس پہ ناز ہے محمود زندگی ہے اُسی خوش نصیب کی اُن کے کسی غُلام کا جو بھی ایاز ہے […]

تکمیلِ ثنا کر دے یہ انساں میں نہیں دم

ذات ایسی، صفات ایسی تری جانِ دو عالم در زمرۂ خاصانِ خدا سب سے معظم وہ رحمتِ دارین ہے وہ خیرِ مجسم وہ منبعِ ہر علم وہ گنجینۂ حکمت دنیا کا معلِّم ہے وہ ہے رب کا معلَّم کیوں کیف نہ ہو کیوں نہ کرے صبح یہ چم چم وہ عالمِ ظلمات میں آیا تھا […]

منتظر خود ہے بصد شوق، خدا آج کی رات

کس کی آمد ہے سرِ عرشِ عُلٰی آج کی رات فاصلے گھٹ گئے، یُوں قُرب بڑھا آج کی رات عبد و معبود میں پردہ نہ رہا آج کی رات بخشوا لیں گے وہ امت کو خدا سے اپنے مانا جائے گا ضرور اُن کا کہا آج کی رات قابَ قَوسَین کی صورت میں ہوا قرب […]

مصطفٰے شانِ قدرت پہ لاکھوں سلام

اولیں نقشِ خلقت پہ لاکھوں سلام قائلِ وحدہٗ لاشریک لہٗ ماحی بدعت پہ پہ لاکھوں سلام بھیڑ میں چوم لیں شاہ کی جالیاں اے نظر تیری ہمت پہ لاکھوں سلام کس کی چوکھٹ پہ دے رہا ہے تو صدا اے گدا تیری قسمت پہ لاکھوں سلام ان کی آمد کا سن کر جو ہوگا بپا […]

کیسے اثر کریں گے ستم کے بلا کے ہاتھ

جب مجھ کو چھو چکے ہیں مرے مصطفٰی کے ہاتھ مجھ کو مری طلب سے زیادہ عطا کیا کھینچے کبھی نہ آپ نے لطف و عطا کے ہاتھ قاصد کوئی بھی مجھ کو میسر نہیں حضور پیغام اب کے بھیج رہا ہوں ہوا کے ہاتھ مجھ کو بلائیے درِ اقدس پہ یا نبی بیٹھا ہوں […]

شاہانِ جہاں کس لئے شرمائے ہوئے ہیں

کیا بزم میں طیبہ کے گدا آئے ہوئے ہیں؟ ہنگامۂ محشر میں کہاں حَبس کا خدشہ گیسو شہِ کونین کے لہرائے ہوئے ہیں حاجت نہیں جُنبِش کی یہاں اے لبِ سائل وہ یُوں بھی کرم حال پہ فرمائے ہوئے ہیں یہ شہرِ مدینہ ہے کہ ہے اک کشش آباد محسوس یہ ہوتا ہے کہ گھرآئے […]

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے

جو ربِ دوعالم کا محبوب یگانہ ہے کل جس نے ہمیں پُل سے خود پار لگانا ہے زہرہ کا وہ بابا ہے ، سبطین کا نانا ہے اس ہاشمی دولہا پر کونین کو میں واروں جو حسن و شمائل میں یکتائے زمانہ ہے عزت سے نہ مر جائیں کیوں نام محمد پر ہم نے کسی […]

رویا ہوں میں اس شخص کے پیروں سے لپٹ کر

جس نے بھی کوئی بات سنائی تیرے در کی ہیں عرض و سماوات تری ذات کا صدقہ محتاج ہے یہ ساری خدائی ترے در کی انوار ہی انوار کا عالم نظر آیا چلمن جو ذرا میں نے اٹھائی ترے در کی تازیست ترے در سے مرا سر نہ اٹھے گا مر جاؤں تو ممکن ہے […]