دیکھ اے دل! یہ کہیں مژدہ کوئی لائی نہ ہو
اُس دیارِ پاک سے چل کر صبا آئی نہ ہو راہِ طیبہ میں خیالِ ہوش و دانائی نہ ہو کیا سفر کا لطف جب تک بے خودی چھائی نہ ہو اُن کا جلوہ ہو ، ہمارے قلب کا آئینہ ہو اور کوئی دوسری صورت سے رعنائی نہ ہو دل نے جب حُسنِ عقیدت سے کیا […]