تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی

قدرت نے اسے راہ دکھائی ترے در کی ہر وقت ہے اب جلوہ نمائی ترے در کی تصویر ہی دل میں اتر آئی ترے در کی ہیں عرض و سماوات تری ذات کا صدقہ محتاج ہے یہ ساری خدائی ترے در کی انوار ہی انوار کا عالم نظر آیا چلمن جو ذرا میں نے اٹھائی […]

قدرت نے آج اپنے جلوے دکھا دئیے ہیں

آمد پہ مصطفیٰ کی پردے اٹھا دئیے ہیں یہ کون آ رہا ہے یہ آج کون آیا سوئے ہوئے مقدر کس نے جگا دئیے ہیں جب اُن کا نام لے کر مظلوم کوئی رویا زنجیر توڑ دی ہے قیدی چُھڑا دئیے ہیں بے کس نواز اُن سا پیدا ہوا نہ ہو گا بِچھڑے مِلا دیئے […]

احمد کہُوں کہ حامدِ یکتا کہُوں تجھے

مولٰی کہُوں کہ بندہء مولٰی کہُوں تجھے کہہ کر پُکاروں ساقیِ کوثر بروزِ حشر یا صاحبِ شفاعتِ کبریٰ کہُوں تجھے یا عالمین کے لِیے رحمت کا نام دُوں *یا پھر مکینِ گنبدِ خضریٰ کہُوں تجھے ویراں دِلوں کی کھیتیاں آباد تجھ سے ہیں دریا کہُوں کہ اَبر سَخا کا کہُوں تجھے تجھ پر ہی بابِ […]

ہے جن کی خاکِ پا رُخِ مہ پر لگی ہوئی

اُن کی لگن ہے دل کو برابر لگی ہوئی شاہِ اُمم لُٹائے چلے جا رہے ہیں جام پیاسوں کی بھیڑ ہے سرِ کوثر لگی ہوئی زہراؓ ، حسینؓ اور حسنؓ کا غلام ہوں مہرِ علی کی مُہر ہے مجھ پر لگی ہوئی قربان اے خیالِ رُخِ مصطفیٰ ! ترے رونق ہے ایک ذہن کے اندر […]

غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے

لِوائے حمد کے سائے میں سر اُٹھا کے چلے چراغ لے کے جو عشاق مصطفےٰ کے چلے ہوائے تُند کے جھونکے بھی سر جھکا کے چلے وہیں پہ تھم گئی اک بار گردشِ دوراں جہاں بھی تذکرے سلطانِ انبیاء کے چلے یہ کس کا شہر قریب آ رہا ہے دیکھو تو دُرود پڑھتے ہوئے قافلے […]

ہم کا دِکھائی دیت ہے ایسی رُوپ کی اگیا ساجن ماں

جھونس رہا ہے تن من ہمرا نِیر بھر آئے اَکھین ماں دُور بھئے ہیں جب سے ساجن آگ لگی ہے تن من ماں پُورب پچھم اُتر دکھن ڈھونڈ پھری مَیں بن بن ماں یاد ستاوے پردیسی کی دل لوٹت انگاروں پر ساتھ پیا ہمرا جب ناہیں اگیا بارو گُلشن ماں درشن کی پیاسی ہے نجریا […]

بے مثل ہے کونین میں سرکار کا چہرہ

آئینہِ حق ہے شہہِ ابرار کا چہرہ دیکھیں تو دعا مانگیں یہی یوسفِ کنعاں تکتا رہوں خالق ! ترے شہکار کا چہرہ خورشیدِ حلیمہ! تری مشتاق ہیں آنکھیں بھاتا نہیں اب ماہِ ضیا بار کا چہرہ اے خُلد کروں گا ترا دیدار بھی لیکن اِس دم ہے نظر میں ترے مختار کاچہرہ والشمس کی یہ […]

تذکرہ سُنئیے اب اُن کا دِلِ بیدار کے ساتھ

جِن کا ذِکر آتا ہے اکثر شاہِ ابرار کے ساتھ صِرف زینبؑ کا وہ خُطبہ سرِ دربار نہ تھا رُعب حیدرؑ کا بھی تھا جُراٗتِ اِظہار کے ساتھ بیڑیاں، صدمہ، سفر، پیاس، نقاہت، صحرا ظلم کیا کیا نہ ہُوئے عابؑدِ بیمارکے ساتھ ہائے وہ کِسطرح بازارسے گزرے ہونگے نام تک جِن کا نہ آیا کبھی […]

دل ہوا روشن محمد کا سراپا دیکھ کر

ہوگئیں پُر نُور آنکھیں اُن کا جلوہ دیکھ کر دنگ ہے دنیا ، عقیدت کا یہ نقشا دیکھ کر سجدہ کرتی ہے جبیں نقشِ کفِ پا دیکھ کر شانِ محبوبِ خدا کا غیر ممکن ہے جواب کہہ اٹھا سارا زمانہ ، ساری دنیا ، دیکھ کر جھوم اُٹھے گی آرزو ، دل کی کلی کِھل […]

لحد میں وہ صورت دکھائی گئی ہے

مری سوئی قسمت جگائی گئی ہے نہیں تھا کسی کو جو منظر پہ لانا تو کیوں بزمِ عالم سجائی گئی ہے صبا سے نہ کی جائے کیوں کر محبت بہت اُن کے کوچے میں آئی گئی ہے یہ کیا کم سند ہے مری مغفرت کی ترے در سے میت اُٹھائی گئی ہے وہاں تھی فدا […]