درودوں کا وظیفہ لمحہ لمحہ دم بدم رکھیں

درِ سرکار پر ہر پل سرِ تسلیم خم رکھیں رہے مرکز خیال و فکر کا بس گنبدِ خضریٰ نظر کے سامنے ہر دم وہ تابندہ حرم رکھیں دل و جاں مضطرب ہیں، دید کو آنکھیں ترستی ہیں مجھے عز و شرف بخشیں، مرے دل میں قدم رکھیں رُخِ انور کا جن عشاق کو دیدار ہو […]

ذکرِ نبی سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے

وہ قلبِ مطمئن ہے ہر گھڑی مسرُور ہوتا ہے مرے سرکار جب تک میرے دل میں نہ قدم رکھیں یہ دل مغموم ہوتا ہے، یہ دل رنجُور ہوتا ہے وہ ہر حالت میں ہیں سرکار کو ہی رُوبرو رکھتے نرالا آپ کے عشاق کا دستور ہوتا ہے حبیبِ کبریا جلوہ فگن عشاق کے دل میں […]

فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقا

جمالِ دید کی نعمت ملے بارِ دگر، آقا مرا قلبِ تپاں جانِ حزیں ہے منتظر، آقا کریں آباد قلب و جاں کا یہ سونا نگر، آقا میں ہوں بے خانماں، خانہ بدوش و در بہ در، آقا عطا سرکار کے قدموں میں ہو بے گھر کو گھر، آقا میں ڈھونڈوں گا کوئی قاصد نہ کوئی […]