خدا سُنتا ہماری التجا ہے
خدا بے پر کو پر کرتا عطا ہے خدا کب اپنے بندوں سے جُدا ہے خدا میرا خدا سب کا خُدا ہے
معلیٰ
خدا بے پر کو پر کرتا عطا ہے خدا کب اپنے بندوں سے جُدا ہے خدا میرا خدا سب کا خُدا ہے
خوشی اولاد کی والد کی شفقت عطا کی بھائی بہنوں میں مؤدت خدا کی دین ہے حُسنِ مروّت
خدا ہم ورد ہے میرا تمہارا خدائے مہرباں احقر ظفرؔ کو ذرا سا پیار مل جائے خدارا
خدا کا ذکر ذکر جاں فزا ہے خدا کا ذکر جب نازل ہو دل پر لرزتا ہے بدن، دل کانپتا ہے
خدا کا ذکر، ذکرِ جانفزا ہے خدا گر دل میں یاد اپنی بسا دے خدا کا ہے کرم اُس کی عطا ہے
ہے محکم آسرا مجھ بے نوا کا خدا کی حمد گونجے ہر زماں میں رہے شہرہ درودوں کی صدا کا مری سرکار ہیں خیرِ مجسم حوالہ امن کا، صدق و صفا کا زمانے آپ سے ہیں فیض پاتے ہے چرچا آپ کے جود و سخا کا وہی جو رحمۃ اللعالمیں ہیں وہ دیں مژدہ مریضوں […]
سہارا، آسرا کوئی نہیں ہے ہے کیوں مایوس یوں ایسے کہ جیسے ظفرؔ تیرا خدا کوئی نہیں ہے
رسولِ پاک کی جود و سخا جاری و ساری ہے ظفرؔ جس کی ہے منزل خانہ کعبہ گنبدِ خضریٰ محبت شوق کا وہ مرحلہ جاری و ساری ہے
خداوندِ فقیہاں مُقبلاں تُو خداوندِ حکیماں عاشقاں تُو خداوندِ ظفرؔ معجز بیاں تُو
خداوندِ ہمہ بے چارگاں تُو خداوندِ غریباں، سائلاں تُو خداوندِ ہمہ خستہ دِلاں تو