جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث

ہوتے ہیں کچھ اور ساماں الغیاث درد مندوں کو دوا ملتی نہیں اے دوائے درد منداں الغیاث جاں سے جاتے ہیں بے چارے غریب چارہ فرمائے غریباں الغیاث حَد سے گزریں درد کی بے دردیاں درد سے بے حد ہوں نالاں الغیاث بے قراری چین لیتی ہی نہیں اَے قرارِ بے قراراں الغیاث حسرتیں دل […]

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے

بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوری پر ہے نہ ہم آنے کے لائق تھے نہ قابل منہ دِکھانے کے مگر اُن کا کرم ذرّہ نواز و بندہ پرور ہے خبر کیا ہے بھکاری کیسی کیسی نعمتیں پائیں یہ اُونچا گھر ہے اِس کی بھیک اندازہ سے باہر ہے تصدق ہو رہے ہیں لاکھوں بندے گرد […]

دردِ دل کر مجھے عطا یا رب

دے مرے درد کی دوا یا رب لاج رکھ لے گناہ گاروں کی نام رحمن ہے ترا یا رب عیب میرے نہ کھول محشر میں نام ستّار ہے ترا یا رب بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل نام غفار ہے ترا یا رب زخم گہرا سا تیغِ اُلفت کا مرے دل کو بھی کر […]

دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے

مرے دل میں چین آئے تو اسے قرار آئے تری وحشتوں سے اے دل مجھے کیوں نہ عار آئے تو اُنھیں سے دُور بھاگے جنھیں تجھ پہ پیار آئے مرے دل کو دردِ اُلفت وہ سکون دے الٰہی مری بے قراریوں کو نہ کبھی قرار آئے مجھے نزع چین بخشے مجھے موت زندگی دے وہ […]

شکر خالق کس طرح سے ہو اَدا

اک زباں اور نعمتیں بے اِنتہا پھر زباں بھی کس کی مجھ ناچیز کی وہ بھی کیسی جس کو عصیاں کا مزا اے خدا کیوں کر لکھوں تیری صفت اے خدا کیوں کر کہوں تیری ثنا گننے والے گنتیاں محدود ہیں تیرے اَلطاف و کرم بے انتہا سب سے بڑھ کر فضل تیرا اے کریم […]

عالم ہمہ صورت ہے، گر جان ہے تو تُو ہے

سب ذرّے ہیں گر مہر، درخشاں ہے تو تُو ہے سب کو ہے خیال اپنا، نہیں کوئی کسی کا محشر میں اگر اُمتی گویاں ہے تو تُو ہے پروانہ کوئی شمع کا، بلبل کوئی گُل کا اللہ ہے شاہد، مرا جاناں ہے تو تُو ہے طالب ہوں ترا، غیر سے مطلب نہیں مجھ کو گر […]

معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا

جب اِشارہ ہو گیا مطلب ہمارا ہو گیا ڈوبتوں کا یا نبی کہتے ہی بیڑا پار تھا غم کنارے ہو گئے پیدا کنارا ہو گیا تیری طلعت سے زمیں کے ذرّے مہ پارے بنے تیری ہیبت سے فلک کا مہ دو پارا ہو گیا اللہ اللہ محو حُسنِ روئے جاناں کے نصیب بند کر لیں […]