نعتیہ اشعار ( اشعار متفرقات )

یہ رحمت ہے کہ بے تابانہ آئیں گے قیامت میں جو غل پہنچا گرفتارانِ اُمت کے سلاسل کا ہے جمالِ حق نما بارہ اماموں کا جمال اس مبارک سال میں ہے ہر مہینہ نور کا خوف محشر سے ہے فارغ دلِ مضطر اپنا کہ ہے محبوبِ خدا شافعِ محشر اپنا داغ دل یادِ دہانِ شہ […]

وہ اُٹھی دیکھ لو گردِ سواری

مثنوی در ذکر ولادت شریف حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم وہ اُٹھی دیکھ لو گردِ سواری عیاں ہونے لگے انوارِ باری نقیبوں کی صدائیں آ رہی ہیں کسی کی جان کو تڑپا رہی ہیں مؤدب ہاتھ باندھے آگے آگے چلے آتے ہیں کہتے آگے آگے فدا جن کے شرف پر سب نبی ہیں […]

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے

وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے دھُوم ہے فرش سے تا عرش تری شوکت کی خطبے ہوتے ہیں جہانبانی و دارائی کے حُسن رنگینی و طلعت سے تمہارے جلوے گل و آئینہ بنے محفل و زیبائی کے ذرّۂ دشتِ مدینہ کی ضیا مہر کرے اچھی ساعت سے پھریں دن شبِ تنہائی کے پیار سے لے […]

ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دربار

گواہ ہیں دلِ محزون و چشمِ دریا بار طرح طرح سے ستاتا ہے زمرۂ اشرار بدیع بہر خدا حرمتِ شہِ ابرار مدار چشمِ عنایت زمن دریغ مدار نگاہِ لطف و کرم از حسنؔ دریغ مدار اِدھر اقارب عقارب عدو اجانب و خویش اِدھر ہوں جوشِ معاصی کے ہاتھ سے دل ریش بیاں میں کس سے […]

ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں

جس کی ہر بات ہے خدا کو قبول جس کے قبضہ میں دو جہان کا ملک جس کے بندوں میں تاجدار شمول جس پہ قرباں جناں جناں کے چمن جس پہ پیارا خدا خدا کے رسول جس کے صدقے میں اہل ایماں پر ہر گھڑی رحمتِ خدا کا نزول جس کی سرکار قاضیِ حا جات […]

آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے

جو یہاں کی خاک ہے اِکسیر ہے کام جو اُن سے ہوا پورا ہوا اُن کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے جس سے باتیں کیں اُنھیں کا ہو گیا واہ کیا تقریرِ پُر تاثیر ہے جو لگائے آنکھ میں محبوب ہو خاکِ طیبہ سرمۂ تسخیر ہے صدرِ اقدس ہے خزینہ راز کا سینہ کی تحریر […]

اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم

فقیروں کے حاجت رَوا غوث اعظم گھرا ہے بَلاؤں میں بندہ تمہارا مدد کے لیے آؤ یا غوث اعظم ترے ہاتھ میں ہاتھ میں نے دیا ہے ترے ہاتھ ہے لاج یا غوث اعظم مریدوں کو خطرہ نہیں بحرِ غم سے کہ بیڑے کے ہیں ناخدا غوث اعظم تمھیں دُکھ سنو اپنے آفت زدوں کا […]

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی

کب گوارا ہوئی اللہ کو رِقّت اُن کی ابھی پھٹتے ہیں جگر ہم سے گنہگاروں کے ٹوٹے دل کا جو سہارا نہ ہو رحمت اُن کی دیکھ آنکھیں نہ دکھا مہرِ قیامت ہم کو جن کے سایہ میں ہیں ہم دیکھی ہے صورت اُن کی حُسنِ یوسف دمِ عیسیٰ پہ نہیں کچھ موقوف جس نے […]

جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم

باز آئے ہندِ بد اختر سے ہم مار ڈالے بے قراری شوق کی خوش تو جب ہوں اِس دلِ مضطر سے ہم بے ٹھکانوں کا ٹھکانا ہے یہی اب کہاں جائیں تمہارے دَر سے ہم تشنگیِ حشر سے کچھ غم نہیں ہیں غلامانِ شہِ کوثر سے ہم اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیع ڈر چکے […]