کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف

اُن کی مدد رہے تو کرے کیا اَثر خلاف اُن کا عدو اسیرِ بَلائے نفاق ہے اُس کی زبان و دل میں رہے عمر بھر خلاف کرتا ہے ذکرِ پاک سے نجدی مخالفت کم بخت بد نصیب کی قسمت ہے بر خلاف اُن کی وجاہتوں میں کمی ہو محال ہے بالفرض اک زمانہ ہو اُن […]

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج

کاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج آمد ہے یہ کس بادشہِ عرش مکاں کی آتے ہیں فلک سے جو حسینانِ اِرم آج کس گل کی ہے آمد کہ خزاں دیدہ چمن میں آتا ہے نظر نقشۂ گلزارِ اِرم آج نذرانہ میں سر دینے کو حاضر ہے زمانہ اُس بزم میں کس […]

کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں

اپنے سرکار کے دربار کو کیوں کر دیکھیں تابِ نظارہ تو ہو ، یار کو کیوں کر دیکھیں آنکھیں ملتی نہیں دیدار کو کیوں کر دیکھیں دلِ مردہ کو ترے کوچہ میں کیوں کر لے جائیں اثرِ جلوۂ رفتار کو کیوں کر دیکھیں جن کی نظروں میں ہے صحرائے مدینہ بلبل آنکھ اُٹھا کر ترے […]

ہم نے تقصیر کی عادت کر لی

آپ اپنے پہ قیامت کر لی میں چلا ہی تھا مجھے روک لیا مرے اللہ نے رحمت کر لی ذکر شہ سن کے ہوئے بزم میں محو ہم نے جلوت میں بھی خلوت کر لی نارِ دوزخ سے بچایا مجھ کو مرے پیارے بڑی رحمت کر لی بال بیکا نہ ہوا پھر اُس کا آپ […]

کرے چارہ سازی زیارت کسی کی

بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کی کہ دیدارِ حق ہے زیارت کسی کی نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کی نہ ہوتی کسی کو زیارت کسی کی عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی ہمیں کیا خدا کو ہے اُلفت کسی کی ابھی پار ہوں […]

سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ

کرم کا چشمۂ جاری ہے بارھویں تاریخ ہمیں تو جان سے پیاری ہے بارھویں تاریخ عدو کے دل کو کٹاری ہے بارھویں تاریخ اِسی نے موسمِ گل کو کیا ہے موسمِ گل بہارِ فصلِ بہاری ہے بارھویں تاریخ بنی ہے سُرمۂ چشمِ بصیرت و ایماں اُٹھی جو گردِ سواری ہے بارھویں تاریخ ہزار عید ہوں […]

ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا

یوسف کو ترا طالبِ دیدار بنایا طلعت سے زمانے کو پُر انوار بنایا نکہت سے گلی کوچوں کو گلزار بنایا دیواروں کو آئینہ بناتے ہیں وہ جلوے آئینوں کو جن جلوؤں نے دیوار بنایا وہ جنس کیا جس نے جسے کوئی نہ پوچھے اُس نے ہی مرا تجھ کو خریدار بنایا اے نظم رسالت کے […]

ترے کرم تری رحمت کا کیا حساب کروں

میں حمد کہنے کی کیا فکر کامیاب کروں چمن میں چاروں طرف پھول تیرے جلووں کے ہوں کشمکش میں کہ کس گل کا انتخاب کروں تجھے قریب سے دیکھا ہے دل کے کعبے میں ترے جمال کا کیا کیا رقم نصاب کروں میں تیری بندہ نوازی کا معترف ہوں بہت میں آدمی ہوں، خطا کیوں […]

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا

ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہو گا گناہگار پہ جب لطف آپ کا ہو گا کیا بغیر کیا ، بے کیا کیا ہو گا خدا کا لطف ہوا ہو گا دستگیر ضرور جو گرتے گرتے ترا نام لے لیا ہو گا دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی کہ آپ ہی کی خوشی آپ […]

نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا

مرے یقین نے ہر ایک جا خدا دیکھا مرے شعور کو شاداب کر گیا منظر حرم میں عالم ہستی کا آسرا دیکھا قسم ہے میرے خدا تیری پاک ہستی کی ترے ہی ذکر سے بندوں کو جھُومتا دیکھا ہر ایک آنکھ میں اشکوں کی کیا روانی تھی بڑے بڑوں کو ترے در سے مانگتا دیکھا […]