مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے

گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے چکوروں سے کہو ماہِ دل آرا ہے چمکنے کو خبر ذرّوں کو دو مہرِ منور آنے والا ہے فقیروں سے کہو حاضر ہوں جو مانگیں گے پائیں گے کہ سلطانِ جہاں محتاج پرور آنے والا ہے کہو پروانوں سے شمع ہدایت اب چمکتی ہے خبر […]

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے

لبوں پر اِلتجا ہے ہاتھ میں روضے کی جالی ہے تری صورت تری سیرت زمانے سے نرالی ہے تری ہر ہر اَدا پیارے دلیلِ بے مثالی ہے بشر ہو یا مَلک جو ہے ترے دَر کا سوالی ہے تری سرکار والا ہے ترا دربار عالی ہے وہ جگ داتا ہو تم سنسار باڑے کا سوالی […]

مرحبا عزت و کمالِ حضور

ہے جلالِ خدا جلالِ حضور اُن کے قدموں کی یاد میں مریے کیجیے دل کو پائمالِ حضور دشتِ ایمن ہے سینۂ مؤمن دل میں ہے جلوۂ خیالِ حضور آفرینش کو ناز ہے جس پر ہے وہ انداز بے مثالِ حضور مَاہ کی جان مہر کا ایماں جلوۂ حُسنِ بے زوالِ حضور حُسنِ یوسف کرے زلیخائی […]

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں

لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا ترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں اِدھر بھی توسنِ اقدس کے دو قدم جلوے تمہاری راہ میں مُشتِ غبار ہم بھی ہیں کھلا دو غنچۂ دل صدقہ باد دامن کا اُمیدوارِ نسیمِ بہار ہم بھی ہیں […]

نہ مایوس ہو میرے دُکھ درد والے

درِ شہ پہ آ ہر مرض کی دوا لے جو بیمار غم لے رہا ہو سنبھالے وہ چاہے تو دَم بھر میں اس کو سنبھالے نہ کر اس طرح اے دلِ زار نالے وہ ہیں سب کی فریاد کے سننے والے کوئی دم میں اب ڈوبتا ہے سفینہ خدارا خبر میری اے ناخدا لے سفر […]

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دُنیا کے ساماں میں

تمھیں دُولھا بنا کر بھیجنا تھا بزمِ امکاں میں یہ رنگینی یہ شادابی کہاں گلزارِ رضواں میں ہزاروں جنتیں آ کر بسی ہیں کوئے جاناں میں خزاں کا کس طرح ہو دخل جنت کے گلستاں میں بہاریں بس چکی ہیں جلوۂ رنگینِ جاناں میں تم آئے روشنی پھیلی ہُوا دن کھل گئی آنکھیں اندھیرا سا […]

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے تمہارے دَر کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اِک عالم گزارا سب کا ہوتا ہے اِسی محتاج خانے سے شبِ اسریٰ کے دُولھا پر نچھاور ہونے والی تھی نہیں تو کیا غرض تھی اِتنی جانوں کے بنانے سے کوئی فردوس ہو یا خلد ہو ہم کو […]

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیالِ رحمت تھپک رہا ہے

کہ آج رُک رُک کے خونِ دل کچھ مری مژہ سے ٹپک رہا ہے لیا نہ ہو جس نے اُن کا صدقہ ملا نہ ہو جس کو اُن کا باڑا نہ کوئی ایسا بشر ہے باقی نہ کوئی ایسا ملک رہا ہے کیا ہے حق نے کریم تم کو اِدھر بھی للہ نگاہ کر لو […]

پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث

مدد پر ہو تیری اِمداد یا غوث اُڑے تیری طرف بعد فنا خاک نہ ہو مٹی مری برباد یا غوث مرے دل میں بسیں جلوے تمہارے یہ ویرانہ بنے بغداد یا غوث نہ بھولوں بھول کر بھی یاد تیری نہ یاد آئے کسی کی یاد یا غوث مُرِیْدِیْ لَا تَخَفْ فرماتے آؤ بَلاؤں میں ہے […]

کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں

لیکن اے دل فرقتِ کوئے نبی اچھی نہیں رحم کی سرکار میں پُرسش ہے ایسوں کی بہت اے دل اچھا ہے اگر حالت مری اچھی نہیں تیرہ دل کو جلوۂ ماہِ عرب درکار ہے چودھویں کے چاند تیری چاندنی اچھی نہیں کچھ خبر ہے میں بُرا ہوں کیسے اچھے کا بُرا مجھ بُرے پر زاہدو […]