مطافِ کعبہ اقدس میں نعتِ مصطفےٰ مانگوں

خدائے روز و شب سے اور مانگوں بھی تو کیا مانگوں مدینے کے جزیرے پر مری کشتی ہے آ پہنچی خزانہ سامنے ہو تو بھلا نقشہ میں کیا مانگوں مرا مقصود کب ہے مال و دولت کی فراوانی مدینے میں سکونت کا اقامہ اے خدا مانگوں میں شہرِ علم کی دہلیز پر اے قادر مطلق […]

میں تو خود ان کے درکا گدا ہوں اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں

اب تو آنکھوں میں کچھ بھی نہیں ہے ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھادوں آنے والی ہے ان کی سواری پھول نعتوں کے گھر گھر سجادوں میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے اپنی پلکوں پہ شمعیں جلادوں میری جھولی میں کچھ نہیں ہے میرا سرمایہ ہے تو یہی ہے اپنی آنکھوں کی چاندی بہادوں اپنے ماتھے […]

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​

میں محفل حرم کے آداب جانتا ہوں​ جو ہیں خدا کے پیارے میں ان کو چاہتا ہوں​ اُن کو اگر نہ چاہوں تو اور کس کو چاہوں​ ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہوگا​ دیکھے بغیر اپنی منزل سے آشنا ہوں​ کوئی تو آنکھ والا گزرے گا اس طرف سے​ طیبہ کے راستے میں ، […]

میں نے یہ مانا کہ وہ میرا ہے تو سب کا بھی وہی

مجھ کو یہ ناز ، وہ سب کا ہے تو میرا بھی وہی وہ مری عقل میں ہے ، وہ میرے وجدان میں ہے میری دنیا بھی وہی ہے ، مری عقبی بھی وہی وہ جو برسا مری تشکیک کے صحراؤں میں میرے وہموں کی شبِ تار میں چمکا بھی وہی وہ بشَر ہے کہ […]

وہ کہ ہیں خیرالا نام

آسماں جھک کر کرے جن کو سلام زندہ جاوید جن کا پاک نام صیقلِ فکر ونظر جن کا کلام عدل وامید ویقیں جن کا پیام بہرِ نفع عام جن کے جملہ کام آدمی پر آدمی کی خواجگی جن کی شریعت میں حرام رہنما ساروں کے، ساروں کے امام جن کی عظمت کے ثنا خواں ہیں […]

کتنا سادہ بھی ہے سچا بھی ہے معیار ان کا

ان کی گفتار کا آئینہ ہے کردار ان کا ان کے پیکر میں محبت کو ملی ہے تجسیم پیار کرتا ہے ہر انساں سے ، پرستار ان کا امتیازات مٹانے کے لیے آپ آئے ظلم کی آگ بجھانے کے لئے آپ آئے آدمیت سے تھا محروم گلستانِ حیات اور یہ پھول کھلانے کے لیے آپ […]

کوئی گفتگو ہو لب پر، تیرا نام آ گیا ہے

تیری مدح کرتے کرتے، یہ مقام آ گیا ہے درِمصطفٰے کا منظر، مری چشم تر کے اندر کبھی صبح آ گیا ہے، کبھی شام آ گیا ہے یہ طلب تھی انبیاء کی رخِ مصطفٰے کو دیکھیں یہ نماز کا وسیلہ، انہیں کام آ گیا ہے جو سخی ہیں شہر بھر کے وہ گدا ہیں ان […]

کھلا ہے سبھی کے لیے بابِ رحمت وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی

مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی، قطاریں لگائے کھڑے ہیں سوالی میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا، تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی وہ دوبارہ سچ مچ مرے سامنے تھا، ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی جو اک ہاتھ سے دل سنبھالے ہوئے تھا، تو تھی دوسرے ہاتھ میں سبز جالی […]

گو ہوں یکے از نغمہ سرایانِ محمد

شاید کہ مری لے نہیں شایانِ محمد ہے پاسِ ادب شرطِ نُخُستینِ مَحبّت بد مست نہ ہوں زمزمہ سنجانِ محمد جو بھی ہے تجلی کہیں پھوٹی ہے یہیں سے ہے مطلعِ ہر مہر، گریبانِ محمد ظلمت کدہِ دہر میں لو دیتی رہے گی تا صبحِ ابد شمعِ فروزانِ محمد سورج کی طرح یہ بھی دلیل […]

ہر اِک جہاں کے لئے ہے جو سیّد السّادات

جہان جس پہ ہے قرباں، دُرودِ تاج میں ہے وہ دستگیر، مددگار اور مولانا وہ بیکسوں کا نگہباں، دُرودِ تاج میں ہے وہ نام سُن کے جسے جاں نثار کرتے ہیں وہ جاں نثاروں کا ارماں، دُرودِ تاج میں ہے وہ بانٹتے ہیں غلاموں کو تاجِ عزّ و شرف اسی سبب سے یہ عنواں، دُرودِ […]