دلوں کا شوق، روحوں کا تقاضا گنبد خضرا

زمانے کی نگاہوں کو اجالا گنبد خضرا گلستان جہاں میں زندگی پرور بہار اس کی سر آفاق لہراتا سویرا گنبد خضرا جو رنگ و بو کی دنیا سر زمیں شہر طیبہ ہے تو خلد چشم و فردوس تمنا گنبد خضرا فلاح و کامرانی کی بشارت اہل ایماں کو گنہگاروں کو رحمت کا اشارا گنبد خضرا […]

دنیا ہے ایک دشت تو گلزار آپ ہیں

اس تیرگی میں مطلعِ انوار آپ ہیں یہ بھی ہے سچ کہ آپ کی گفتار ہے جمیل یہ بھی ہے حق کہ صاحبِ کردار آپ ہیں ہو لاکھ آفتابِ قیامت کی دھوپ تیز میرے لیے تو سایہِ دیوار آپ ہیں مجھ کو کسی سے حاجتِ چارہ گری نہیں ہر غم مجھے عزیز کہ غم خوار […]

دے تبسم کی خیرات ماحول کو، ہم کو درکار ہے روشنی یا نبی

ایک شیریں جھلک ، ایک نوریں ڈلک، تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبی اے نوید مسیحا! تری قوم کا حال عیسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا اس کے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے چھین لی چرخ نے برتری یا نبی کام ہم نے رکھا صرف اذکار سے، تیری تعلیم اپنائی اغیار نے حشر […]

راہ گم کردہ مسافر کا نگہباں تو ہے

آفتِ جاں پہ مثال مہ تاباں تو ہے اس خدا سے مجھے کیسے ہو مجالِ انکار جس کے شہ پارہِ تخلیق کا عنواں تو ہے یہ بتانے کو کہ با وزن ہے انسان کی ذات دست یزداں نے جو بخشی ہے وہ میزاں تو ہے تیرا کردار ہے احکامِ خدا کی تائید چلتا پھرتا ، […]

سوزِ دل چاہیے، چشمِ نم چاہیے اور شوقِ طلب معتبر چاہیے

ہوں میسر مدینے کی گلیاں اگر، آنکھ کافی نہیں ہے نظر چاہیے ان کی محفل کے آداب کچھ اور ہیں، لب کشائی کی جرات مناسب نہیں ان کی سرکار میں التجا جنبشِ لب نہیں، چشمِ تر چاہیے اپنی رو داد غم میں سناوؔں کسے، میرے دکھ کو کوئی اور سمجھے گا کیا؟ جس کی خاکِ […]

سیرت وکردار دیتے ہیں شہادت آپ کی

سیرت و کردار دیتے ہیں شہادت آپ کی چار سو تاباں جہاں میں ہے صداقت آپ کی زندگانی کا سلیقہ آپ نے بتلا دیا نوعِ انساں پر ہے بے پایاں عنایت آپ کی آپ کے افکار تو قرآن کی تفسیر ہیں باعثِ رحمت زمانے میں رسالت آپ کی ملّتِ بیضا کی عظمت آپ کی تعلیم […]

عالم کی ابتدا بھی ہے تو ، انتہا بھی تو

سب کچھ ہے تو ، مگر ہے کچھ اس کے سوا بھی تو کندہ درِ ازل پہ ترا اسمِ پاک تھا قصرِ ابَد میں گونجنے والی صدا بھی تو فردا و حال و ماضئ انساں یہی تو ہے تو ہی تو ہو گا ، تو ہی تو ہے اور تھا بھی تو یوں تو مرے […]

عشق کے رنگ میں رَنگ جائیں جب اَفکار

عشق کے رنگ میں رَنگ جائیں جب اَفکار تو کُھلتے ہیں غلاموں پہ وہ اَسرار کہ رَہتے ہیں وہ توَصیف و ثنائے شَہہِ ابرار میں ہر لحظہ گُہر بار   ورنہ وُہ سیّدِ عالی نَسَبی ہاں وُہی اُمّی لقَبی ، ہاشمی و مُطّلبی و عَرَبی و قَرشی و مَدَنی اور کہاں ہم سے گنہ گار […]

مجھ کو تو اپنی جاں سے بھی پیارا ہے ان کا نام

شب ہے اگر حیات ، ستارا ہے ان کا نام تنہائی کس طرح مجھے محصور کر سکے جب میرے دل میں انجمن آرا ہے ان کا نام ہر شخص کے دکھوں کا مداوا ہے ان کی ذات سب پا شکستگاں کا سہارا ہے ان کا نام بے یاروں ، بے کسوں کا اثاثہ ہے ان […]

مری حیات کا گر تجھ سے انتساب نہیں

تو پھر حیات سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں امڈ رہی ہیں اگر آندھیاں تو کیا غم ہے کہ میرا خیمہِ ایمان بے طناب نہیں ترے کمالِ مساوات کی قسَم ہے مجھے کہ تیرے دیں سے بڑا کوئی انقلاب نہیں ندیم پر ترے احساں ہے اس قدر جن کا کوئی شمار نہیں ہے کوئی حساب […]