پوشاکِ عمل جامۂ کردار پہن لوں
سر تا بقدم اسوۂ سرکار پہن لوں ایماں کے لیے حسنِ عمل بھی ہے ضروری یہ کیا کہ فقط جبۂ و دستار پہن لوں آنکھوں میں رہے خاکِ درِ شاہ کا سرمہ صافے کی جگہ طیبہ کے میں خار پہن لوں حرمت ترے قربانیاں مانگے تو میں حاضر زنجیرِ قضا شوق سے سوبار پہن لوں […]