بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھانے کے واسطے

آپ آ گئے چراغ جلانے کے واسطے کیا کیا صُعوبتیں نہ اُٹھائیں حضور نے اللہ کا پیام سُنانے کے واسطے اک اہتمامِ خلوتِ نُور آفریں ہُوا بندوں کو اپنے رب سے ملانے کے واسطے دل اُن کے ذکر کے لیے اور اُن کی یاد میں آنکھیں ملی ہیں اشک بہانے کے واسطے جھونکا سا جیسے […]

بہت قسمت پہ ہوں میں اپنی نازاں یا رسول اللہ

تمہارا ہے مرے ہاتھوں میں داماں یا رسول اللہ خدا سے ہم کلامی کا شرف تم کو ہوا حاصل خدا کے گھر ہوئے تم جا کے مہمان یا رسول اللہ ہوا ہے اور نہ ہوگا نہ ہے ثانی دو عالم میں کہ تم ہو بخدا محبوب یزداں رسول اللہ تمہیں نائب بنا کے بھیجا ہے […]

جُز آپ کے اے شاہِ رسولاں نہیں دیکھا

طالب ہے خدا جس کا وہ انساں نہیں دیکھا قرآن میں اللہ نے تعریف کی ان کی ہے کون جسے ان کا ثناء خواں نہیں دیکھا نفرت ہو جسے ذکرِ شہنشاہِ زمن سے ایسا تو کوئی ہم نے مسلماں نہیں دیکھا جس دل میں نہیں سرورِ عالم کی محبت شاداں نہیں دیکھا اسے شاداں نہیں […]

روئے بدر الدجیٰ دیکھتے رہ گئے

چہرہ والضحٰے دیکھتے رہ گئے حسن خیر الوری میں خدا کی قسم ہم جمالِ خدا دیکھتے رہ گئے ہم گناہگار پہنچے درِ پاک پر زاھد دپارسا دیکھتے رہ گئے جالیوں کے قریں بیٹھ کر وجد میں نورِ حق کی ضیا دیکھتے رہ گئے جو سکندر ہوا ان کے دربار سے وہ کرم وہ عطا دیکھتے […]

سَیلِ گفتارِ محمد زمزم ومشک وگلاب

سَیلِ گفتارِ محمد زمزم و مشک و گلاب اور وہ لب ہائے گویا ، روشنی ، خوشبو ، حِنا کاروانِ نور و نکہت ان کے سانسوں کی مہک اور وہ کومل سا مکھڑا ، روشنی ، خوشبو ، حِنا ذاتِ ختمِ المرسلین خورشید، عنبر ، تازگی حیدرؓ وحسنینؓ و زہراؓ ، روشنی ، خوشبو ، […]

سید المرسلین میں کہیں بھی نہیں

سید المرسلین میں کہیں بھی نہیں نیک نامی سے تہمت چھلکنے لگی صرف رسوائیاں میرے اطراف ہیں میرے چاروں طرف بھیڑ ہی بھیڑ ہے پھر بھی تنہائیاں میرے اطراف ہیں جسم جن کا نہیں روح جن میں نہیں کیسی پرچھائیاں میرے اطراف ہیں محفلوں کے تسلسل میں زندہ ہوں میں اور ویرانیاں میرے اطراف ہیں […]

فضل ربِ العلی اور کیا چائیے

مل گئے مصطفیٰ اور کیا چائیے دامنِ مصطفیٰ جس کے ہاتھوں میں ہو اس کو روزِ جزا اور کیا چائیے گنبد سبز خوابوں میں آنے لگا حاضری کا صلہ اور کیا چائیے بھیگ کے ساتھ ہی ان کے دربار سے مل رہی ہے دعا اور کیا چائیے یہ جبیں اور ریاض الجناں کی زمیں اب […]

مرے وردِ لب ہے نبی نبی مرادل مقامِ حبیب ہے

میں مریضِ عشقِ رسول ہوں وہ حبیب میرا طبیب ہے مرا اُس گلی سے رابطہ جہاں سر جھکاتے ہیں انبیاء جہاں رحمتوں کا نزدل ہے وہ جو عرشِ حق کے قریب ہے میں بڑا امیر و کبیر ہوں شہِ دوسرا کا فقیر ہوں درِ مصطفیٰ کا اسیر ہوں مرا رفعتوں پہ نصیب ہے میں غم […]

وہ ہیں محبوبِ رب انکی سبکو طلب,اس میں کیا کوئی شک قلب سے روح تک

ہر نفس ہر گھڑی ہے بہ حسنِ طلب انکی روشن جھلک قلب سے روح تک حسنِ طیبہ نگر ,کررہا ہے سفر، ہے ابھی تک وہی میرے پیشِ نظر دید سے آنکھ تک, آنکھ سے خواب تک، خواب سے سے قلب تک, قلب سے روح تک گردِ اوہام و آلام سے باخدا، میں نے رکھا ہے […]