تاج داروں کے تاج دار ہیں آپ

غم کے ماروں کے غم گسار ہیں آپ آپ کے مِثل ہو نہیں سکتا رب کے وہ شاہ کار ہیں آپ آپ کے لب پہ ’لا‘​ نہیں آتا قاسمِ روزگار ہیں آپ آپ ہیں اصلِِ عالمیں آقا نائبِ کردگار ہیں آپ میری شہرت ہے آپ کا صدقہ میری عزت مرے وقار ہیں آپ یہ مُشاہدؔ […]

جاں فزا ہے باغِ جنت سے ہواے کوئے دوست

جاں فزا ہے باغِ جنت سے ہوائے کوئے دوست ہے مُشامِ ذہن و دل میں ہر گھڑی خوشبوئے دوست خواب ہی میں دیکھ لوں گر جلوۂ نیکوئے دوست ہر نفس قائم رہے پھر دل میں میرے بوئے دوست جن کو قسمت سے ملی پُشتوں تلک مہکا کیے ایسی خوشبو ہے بسی درمیاں گیسوئے دوست یاخدا! […]

دشتِ طیبہ ہے ہمیں باغِ ارم کی صورت

یاخدا ! اب تو دکھا دونوں حرم کی صورت حالِ دل کس کو سناؤں آپ کے ہوتے ہوئے آپ ہی ہم کو دکھائیں گے کرم کی صورت جس کو ملتا ہے جو ملتا ہے آپ ہی کا صدقہ ہے آپ نہ چاہیں تو نظر آئے نہ غم کی صورت آپ چاہیں تو ہو شاخِ شجر […]

خاکِ طیبہ کی طلب میں خاک ہوجاے حیات

خاکِ طیبہ کی طلب میں خاک ہو جائے حیات رنج و غم درد و الم سے پاک ہو جائے حیات زندگی کی زندگی ہے عشق و الفت آپ کی حُبِّ احمد گر نہ ہو خاشاک ہو جائے حیات اُسوۂ سرکار کا ہو جو کہ پیر و روز و شب اس کی تو پھر حاملِ ادراک […]

نظر ڈھونڈتی ہے دیار مدینہ​

ہیں دل اور جاں بے قرار مدینہ​ وہ دیکھو احد پر شجاعت کا منظر​ شہیدوں کے خون شہادت کا منظر​ وہ ہے سامنے سبز گنبد کا منظر​ اسی میں تو آرام فرما ہیں سرور​ ابوبکر و فاروق و عثمان و حیدر​ یہیں تھے یہ پروانہ شمع انور​ یہیں سے تو اسلام پھیلا جہاں میں​ مدینہ […]

کوئی نبی نہیں سلطانِ انبیا کی طرح

قریبِ رب نہیں کوئی بھی مصطفیٰ کی طرح بشر کے رُوپ میں نورِ خدا کے پیکر ہیں کوئی بشر نہیں محبوبِ کبریا کی طرح نکالا ہم کو جہالت کے اندھے غاروں سے نہ آیا جگ میں کوئی میرے رہنما کی طرح جمالِ یوسفِ کنعاں پہ دل مرا قرباں ہے یہ بھی سچ نہیں وہ حُسنِ […]

رُخ مہر ہے یا مہ لقا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​

رُخ مہر ہے یا مہ لقا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​ ہاں حسن روئے مصطفیٰ ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​ حُسن دبستان جناں ، نیرنگی کون و مکاں​ گر وہ نہ ہوں جلوہ نما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں​ تاجِ سر کسریٰ کہاں ، پیشانیِ زہرہ کہاں​ نعلینِ پاکِ […]

سارے سخن نواز کمالات جوڑ لوں

ممکن نہیں کہ پھر بھی تری نعت جوڑ لوں تو تو عنایتوں کی سحر ہے ، عطا کی شام میں کیسے عرض باندھوں ، سوالات جوڑ لوں لمحوں کے اِتصال سے ہوتی نہیں ہے نعت کچھ ایسا اِلتفات کہ دن رات جوڑ لوں اے کاش پھر سے کوئی نویدِ کرم ملے اے کاش پھر سے […]

آپ کی آمدِ رحمت کے سبب ہیں قائم

حضرتِ آدم و حوا کے نسب ہیں قائم آپ نے بخشے ہیں اظہار کو امکان کے رنگ آپ کے فیض سے ہی علم و ادب ہیں قائم آپ کی یاد کی تاثیر سے آنکھیں روشن آپ کی نعت کی توفیق سے لب ہیں قائم تیرگی بیت چکی ہے پسِ اظہار کہیں اب تو میلاد کی […]

آپ کی رحمتِ بے پایاں کے اظہار کے رنگ

رنگ تو جیسے ہوئے گردِ رہِ یار کے رنگ نقشِ نعلینِ کرم بار پہ تاروں کا نزول جیسے خود رنگ چلے باندھنے سنگھار کے رنگ نازِ صد رنگ ترے گنبدِ خضریٰ کا جلو رشکِ صد طُور ترے کوچہ و بازار کے رنگ نخوتِ شاہی کو ٹھوکر پہ رکھے بندہ ترا سطوتِ وقت پہ حاوی ترے […]