یہ اور بات کہ میں اُس کی ماتحت نہ رہی
مگر تھا ناز مجھے اس کی حکمرانی پر
معلیٰ
مگر تھا ناز مجھے اس کی حکمرانی پر
رواں ہوں رشتوں کے دریا عبور کرتے ہوئے
اپنے ہر کرب کو سینے سے لگاتی ہوئی میں جگنو امید کے آنچل میں سرِ شام لیے گھر کی چوکھٹ پہ نئے دیپ جلاتی ہوئی میں
کنیز تحریر ہو گئی ہے ، خوشامدانہ صحافتیں ہیں
اس آئینے میں کہیں پر مرا کمال بھی ہے
کوئی خوشبو مہک گئی ہے کیا خون دل قطرہ قطرہ گرتا ہے چشم پُرنم چھلک گئی ہے کیا
پھول کی پتی پہ شبنم سی اُتر آئی ہے شب کی تنہائی میں یادوں کی ہے سرگوشی سی گھپ اندھیرے میں دبے پاؤں سحر آئی ہے
کسی نے کیسی یہ بد دعا دی کہ شاخِ گل پر ثمر نہ آئے
بجھتے ہوئے چراغ کی لو کا دھواں ہوں میں
تیر لفظوں کے وہ جب لب کی کماں تک لے گیا