جو خزاں ہوئی وہ بہار ہوں ، جو اُتر گیا وہ خمار ہوں

جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں ، جو اُجڑ گیا وہ دیار ہوں میں کہاں رہوں میں کہاں بسوں ، یہ یہ مجھ سے خوش ہ وہ مجھ سے خوش میں زمین کی پیٹھ کا بوجھ ہوں ، میں فلک کے دل کا غبار ہوں مرا حال قابلِ دید ہے ، نہ تو یاس ہے […]

اُن کے تیور وہی ہیں اتنی دل آزاری کے بعد

آج تو میں رو دیا احساسِ ناچاری کے بعد آبرو کے مدعی تھے جان کے دشمن نہ تھے دشمنوں کی قدر جانی آپ کی یاری کے بعد رو چکا اے دل جواں مرگی پہ اپنی صبر کر صبر ہی کرنا پڑے گا نالہ و زاری کے بعد عشق کی توہین ہے درمانِ الفت کی تلاش […]

تم کیا ہر ایک مجھ سے بیزار ہے جہاں میں

عنوانِ بے کسی ہوں دنیا کی داستاں میں سجدے نہیں ہیں ہمدم جھک جھک کے پڑھ رہا ہوں لکھی ہے میری قسمت اس سنگِ آستاں میں کافر تری زباں ہے قدرت کا شعرِ رنگیں ورنہ کہاں سے آیا جادو ترے بیاں میں اے حشرؔ ہو مبارک ، ہے آج وصل کی شب اک چاند ہے […]