یوں تری یاد میں سلگتے ہیں

جیسے صحرا میں پیڑ جلتے ہیں لے اُڑے گی ہوائے دہر ہمیں ہم خزاں رُت کے زرد پتے ہیں خشک دریا اُنہیں نہیں دُکھتے جو پرندے اُڑان رکھتے ہیں جوڑتے ہیں تمام دن خود کو رات بھر ریزہ ریزہ ہوتے ہیں رتجگے کاٹتے ہیں راتوں کو ہم کہ دن بھر جو نیند بوتے ہیں ہوگئی […]

انا پرست تو ہم ہیں ، غرور کس کا ہے

مبارزت کے عمل میں قصور کس کا ہے تمھاری آنکھ میں تو آفتاب کِھلتے ہیں مگر ہمارے چراغوں میں نور کس کا ہے یہ کون مجھ میں مجھے ڈھونڈتا ہے ہر لمحہ مرے وجود پہ قائم شعور کس کا ہے مجھے بتاؤ کہ چارہ گری کروں کس کی مری تھکن سے بدن چُور چُور کس […]

نہ میں موم ہوں اور نہ وہ سنگ ہے

فقط یہ اناؤں کی اِک جنگ ہے اگر جھوٹ بولیں تو خوفِ فلک اگر سچ کہیں تو زمیں تنگ ہے محبت ہے اِک عہد کا نام اور ہوس لہر ہے ، زہر ہے ، ڈنگ ہے ترا حسن اِک عارضی رُوپ ہے مرا عشق اِک دائمی رنگ ہے تری سوچ کے مختلف ہیں خطوط مرے […]

انتظار

تو اپنی ذات میں گُم ہے میں خود سے بے خبر ہوں ایک تنہا سا شجر ہوں بہتی ندّی کے کنارے چلچلاتی دھوپ میں کب سے کھڑا ہوں اپنی ہی ضد پر اڑا ہوں تو کبھی آئے سہی اک بار میرے پاس تیرے دل میں ہو احساس تو سائے بچھا دوں گا سواگت میں تِرے […]