حوصلہ قافلے والوں کا بڑھاتے رہنا
منزلیں دور ہیں قدموں کو ہلاتے رہنا میں حدی خواں ہوں مرا کام صدائیں کرنا میری آواز میں آواز ملاتے رہنا
معلیٰ
منزلیں دور ہیں قدموں کو ہلاتے رہنا میں حدی خواں ہوں مرا کام صدائیں کرنا میری آواز میں آواز ملاتے رہنا
بحر ظلمت میں رواں جیسے سفینے روشن چند لمحے جو ترے نام کے مل جاتے ہیں روز اُن کے دم سے ہیں مرے سال مہینے روشن کسی جلوے کی کرامت ہے یہ چشم بینا کسی دہلیز کا احسان جبین روشن میرے اشکوں میں عقیدت کے جہاں ہیں آباد آنکھ میں رہتے ہیں کچھ مکّے مدینے […]
واقعہ اپنے بکھرنے کا سبھی نے دیکھا لوگ پتھر تھے یا پھر ہم تھے شہاب ثاقب ٹوٹ کر گرنے سے پہلے نہ کسی نے دیکھا
شاخِ شجر سے ٹوٹ کے جیسے ثمر گرے سونپی ہیں راہِ شوق نے وہ وہ امانتیں کاندھوں سے رہ نورد کے زادِ سفر گرے آیا ہے کس کا نام یہ نوکِ قلم پر آج کاغذ پر آ کے سینکڑوں شمس و قمر گرے خاشاک بن گئے ہیں ہواؤں کے ہاتھ میں اپنی جڑوں سے ٹوٹ […]
پھر سے کسی نظر میں پرستان ڈھونڈئیے یونہی گزر نہ جائے یہ موسم شباب کا آرائشِ حیات کا سامان ڈھونڈئیے کب تک گلاب ہاتھ میں لے کر پھریں گے آپ موسم بہت شدید ہے گلدان ڈھونڈئیے دیوار ہی گری ہے، یہ بازو نہیں گرے ملبہ اٹھا کے سائے کا امکان ڈھونڈیے اٹھتی ہے اک صدا […]
آگ اتنی ہو تو پتھر بھی چمک دیتے ہیں خاک گرتی ہے جو سر پر غمِ دنیا کی کبھی نام لے کر ترا ہولے سے جھٹک دیتے ہیں زندگی جب بھی نظر آتی ہے عریاں اپنی ہم ترے درد کی پوشاک سے ڈھک دیتے ہیں یاد کے پھول کتابوں میں دبے رہنے دو خشک ہو […]
سفر کہیں کا ہو آغاز پر نظر رکھنا شعاع نور محبت کو رکھنا قبلہ نما جہاں یہ دل کرے سجدہ وہیں پہ سر رکھنا تمام روپ محبت کے خوبصورت ہیں کوئی بھی رشتہ کسی سے ہو معتبر رکھنا چراغ بن نہیں سکتے تو بن کے تم فانوس کسی چراغ کو موسم سے بے خطر رکھنا […]
راحتِ جاں ناز پرور سب مسرّت تم سے ہے افتخار و شادمانی کی یہ دولت تم سے ہے خانۂ آباد کی یہ شان و شوکت تم سے ہے رونقِ بزمِ عروسی کی ضمانت تم سے ہے محفلِ شادی کی رونق دائمی ہو شاد باد رنگِ عشرت سے مزیّن آرسی ہو شاد باد آنے والی زندگی […]
اپنے سائے کے علاوہ نہیں ملتا سایا دور جائیں جوشجرسے تو جھلس جانے کا ڈر چھاؤں میں بیٹھیں تو اپنا نہیں بنتا سایا بڑھ گئی میری تھکن اور بھی اے شہر امان آزما کر تری دیوار کا دیکھا سایا عکس شیشے کے گھروں میں نظر آتے ہیں ہزار دھوپ آ جائے تو ڈھونڈے نہیں ملتا […]
جب بجھ گیا تو ورثۂ بیکار میں سے تھا آساں ہوئی ہیں منزلیں، اچھا ہوا لٹا رختِ سفر کہ جان کے آزار میں سے تھا خنجر مرا تھا ہاتھ میں اُس کے، سپر مری نکلا مگر وہ لشکرِ اغیار میں سے تھا زنداں لگا مجھے تو یہ دورانِ زندگی سارا نظارہ روزنِ دیوار میں سے […]