سب کاروبار نقد و نظر چھوڑنا پڑا
بکِنے لگے قلم تو ہُنر چھوڑنا پڑا قربانی مانگتی تھی ہر اک شاخ بے ثمر بسنے نہ پائے تھے کہ شجر چھوڑنا پڑا کرنا تھا جو سفر ہمیں ہم نے نہیں کیا بچوں کو آج اس لئے گھر چھوڑنا پڑا آ تو گئے ہو، سوچ لو جاؤ گے پھر کہاں یہ شہر بد لحاظ اگر […]