سب کاروبار نقد و نظر چھوڑنا پڑا

بکِنے لگے قلم تو ہُنر چھوڑنا پڑا قربانی مانگتی تھی ہر اک شاخ بے ثمر بسنے نہ پائے تھے کہ شجر چھوڑنا پڑا کرنا تھا جو سفر ہمیں ہم نے نہیں کیا بچوں کو آج اس لئے گھر چھوڑنا پڑا آ تو گئے ہو، سوچ لو جاؤ گے پھر کہاں یہ شہر بد لحاظ اگر […]

زندہ حقیقتوں سے چھپایا گیا ہمیں

ماضی کی داستاں میں بسایا گیا ہمیں چھینا گیا لبوں سے تبسم بنامِ سوز قصے کہانیوں پہ رُلایا گیا ہمیں اپنے سوا ہر عکس ہی بگڑا ہوا لگا آئینہ اِس طرح سے دکھایا گیا ہمیں پہلے تو ایک درسِ اخوّت دیا گیا پھر حرفِ اختلاف پڑھایا گیا ہمیں کانوں میں زہرِ کفر انڈیلا گیا ہے […]

سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں

ہم لوگ وفاؤں کے تضادات میں گم ہیں رستوں میں نہیں سات سمندر کی یہ دوری یہ سات سمندر تو مری ذات میں گم ہیں ہم لے کے کہاں جائیں محبت کا سوال اب دل والے بھی اپنے ہی مفادات میں گم ہیں کشکولِ انا کو بھی چٹختا کوئی دیکھے سب اہلِ کرم لذتِ خیرات […]

شب کی کتاب میں کبھی تازہ برگ گلاب تھا

خطِ زر فشاں سے لکھا ہوا مری زندگی کا نصاب تھا وہ مثالِ ابر تھا آسرا کڑے موسموں کے دیار میں وہ تمازتوں کے سوال پر مری تشنگی کا جواب تھا جو بغاوتوں کے جواز میں مری سرکشی کا سبب رہا وہ امین تھا مرے خواب کا، وہ مرا غرور شباب تھا مرے کسب زارِ […]

لب پہ شکوہ بھی نہیں، آنکھ میں آنسو بھی نہیں

مجھ سے دل کھول کے لگتا ہے مِلا تو بھی نہیں اُن کی آنکھوں کے ستارے تو بہت دور کی بات ہم وہاں ہیں کہ جہاں یاد کے جگنو بھی نہیں جب سے گردن میں نہیں ہے کوئی بانہوں کی کمان میرے سینے میں کوئی تیر ترازو بھی نہیں یا تو ماضی کی مہک ہے […]

میں روز اپنے لئے ضابطے بناتا ہوں

پھر اُن کو توڑتا ہوں اور نئے بناتا ہوں پہنچ بھی جاؤں کہیں میں تو گھر نہیں کرتا نئے سفر کے لئے راستے بناتا ہوں مقیمِ دل ہوں میں، امید نام ہے میرا میں خواب بُنتا ہوں اور واقعے بناتا ہوں میں ٹکڑے جوڑ کے ٹوٹے ہوئے چراغوں کے ہوا کے سامنے بیٹھا دیئے بناتا […]

میرا سفر ہے ضبطِ مسلسل کی قید میں

چھوٹی سی جیسے کشتی ہو بوتل کی قید میں اپنے بدن کی آگ میں جل کر مہک اٹھی خوشبو جو بیقرار تھی صندل کی قید میں اے فصل تشنہ کام نویدِ رہائی دے پانی کو دیکھ کب سے ہے بادل کی قید میں گہرائی اُس کے ضبطِ الم کی بھی دیکھئے ساگر رکھے ہوئے ہے […]

کتنے چراغ جل اٹھے، کتنے سراغ مل گئے

آنکھیں جنوں کی کیا کھلیں، اپنے تو ہونٹ سل گئے ایسے پلٹ گئی ہوا دل کی کتاب کے ورق یادوں کے کچھ گلاب جو کھوئے ہوئے تھے مل گئے اک چہرے کی شباہتیں نکھریں مری نظر کے ساتھ شاخ نظر جھکی جدھر کچھ عکس تازہ کھل گئے اپنی تو خیر راہ میں تھیں کرچیاں ہی […]

کوئی بھی آگ ہو، شانہ بشانہ جلتا ہے

وہ میرے ساتھ ہے جب سے، زمانہ جلتا ہے کوئی تو رہتا ہے دل کے کھنڈر مکانوں میں چراغ شام کو اکثر پرانا جلتا ہے دراز دستیء بادِ ستم کا شکوہ کیا چراغ یادوں میں اب جاودانہ جلتا ہے یہ انتظار شبستان دل میں ہے کس کا نہ بجھ کے دیتا ہے کوئی دیا، نہ […]

ہم سے بڑھ کر تو کو ئی خاک میں کھویا بھی نہ تھا

ہم سے بڑھ کر تو کوئی خاک میں کھویا بھی نہ تھا پھر بھی وہ کاٹ رہے ہیں کہ جو بویا بھی نہ تھا رستے طویل ہو گئے یا گھٹ گیا ہے دن اب تک سفر نہیں کٹا اور کٹ گیا ہے دن