غمِ دوراں سے رہا ہو کے کدھر جانا ہے
اسی زنداں میں ہمیں جینا ہے مر جانا ہے
معلیٰ
اسی زنداں میں ہمیں جینا ہے مر جانا ہے
سنا ہے پھر سے محبت کے امتحاں ہوں گے جو داغ مٹ گئے دل کے وہ پھر عیاں ہوں گے
ہماری عید یہی ہے کہ تم سے بات کریں تمہارے شوخ لبوں سے چرا کے شرماہٹ گلاب و لالۂ و سنبل کے رنگ مات کریں
نشاطِ قرب میسر ہے اتنی دوری میں
بیچ کر مجھ کو مرے منہ میں نوالا دے گا فرق مٹ تو گئے مابین سفید و سیہ اب اور کتنا یہ نیا دور اُجالا دے گا جس کی خاطر میں نے پہچان گنوائی اپنی اب وہی میرے تشخص کو حوالہ دے گا سر جھکاتا ہے پذیرائی کے انداز میں آج کل یہی شہر ہمیں […]
جتنے بچے ہیں سنگ ملامت، اٹھائیے مصلوب کیجئے ہمیں نا کردہ جرم پر معصوم پھر بنا کے سلامت اٹھائیے یہ ٹیڑھے ترچھے وار ہیں توہین عاشقی تیغ ستم کو برسر قامت اٹھائیے اِس تہمتِ جفا سے بھی آگے ہیں مرحلے اتنی سی بات پر نہ قیامت اٹھائیے تکلیف دیجئے نہ کسی غمگسار کو احسانِ چارہ […]
وفا کا قرض ہے، سر بیچ کر ادا ہو گا زمیں کا قرض ہے جتنا مری اڑانوں پر غرورِ بازو و پر بیچ کر ادا ہو گا چکانے نکلا ہوں میں کاسۂ گدائی لئے جو قرض کاسۂ سر بیچ کر ادا ہو گا لبوں سے حرفِ محبت بہ لہجۂ تسلیم متاعِ قلب و جگر بیچ […]
رہنما کوئی اگر تھا تو یہ رستہ اپنا زندگی گزری تضادات سے لڑتے لڑتے فیصلے سارے تھے اوروں کے، طریقہ اپنا بے سلیقہ تو نہیں، بے سروسامان سہی دست و بازو کو بنائیں گے وسیلہ اپنا مان کرمشورے اپنوں کے اٹھایا ہے قدم دیکھئے اب کیا نکلتا ہے نتیجہ اپنا ڈر تو لگتا ہے بہت […]
منزل سے دلفریب نظارہ سفر کا تھا جب تک امید منزل جاناں تھی ہمقدم دل کو ہر اک فریب گوارا سفر کا تھا رہبر نہیں نصیب میں شاید مرے لئے جو ٹوٹ کر گرا ہے، ستارہ سفر کا تھا رُکنے پہ کر رہا تھا وہ اصرار تو بہت مجبوریوں میں اُس کی اشارہ سفر کا […]
اس درجہ احتیاط کے قائل نہیں تھے ہم غفلت جو تھی اگر تو بس اپنے ہی حال سے حالت سے دوستوں کی تو غافل نہیں تھے ہم خوابوں کی آبرو بھی پسِ پشت ڈال دیں اتنے بھی زیرِ بارِ مسائل نہیں تھے ہم گزری تو خیر جیسی بھی لیکن لگا ہمیں اُس انتظارِ زیست کا […]