صرف ہمی ہیں جو تجھ پر پورے کے پورے مرتے ہیں
ورنہ کسی کو تیری آنکھیں کسی کو لہجہ مارتا ہے
معلیٰ
ورنہ کسی کو تیری آنکھیں کسی کو لہجہ مارتا ہے
آپ لہجہ سنبھالیے اپنا
فرش نے عرش کے امکان دکھائے ہوں گے سر جھکاتے ہیں جو ہر سنگ پہ کہہ کر لبیک خوئے تسلیم تری بزم سے لائے ہوں گے جن کے سینے میں دھڑکتا ہو کسی اور کا دل لوگ ایسے بھی تو قدرت نے بنائے ہوں گے اختلافاتِ نظر خود ہیں اُجالے کا ثبوت جس جگہ روشنی […]
کوئی بھی رُت ہو چمن چھوڑ کر نہیں جاتے چلے بھی جائیں پرندے، شجر نہیں جاتے ہوا اُتار بھی ڈالے اگر قبائے بدن بلند رکھتے ہیں بازو بکھر نہیں جاتے گئی رتوں کے سبھی رنگ پہنے رہتے ہیں شجر پہ رہتے ہیں موسم گذر نہیں جاتے خمیر بنتے ہیں مٹی کا ٹوٹ کر بھی شجر […]
مسافرانِ محبت ہیں سنگِ راہ نہیں ق ستم تو یہ ہے کہ دنیا تمہارے زیرِ ستم تمہارے ظلم کا پھر بھی کوئی گواہ نہیں کھلا ہے کون سا رستہ سپاہِ جبر سے آج بچا ہے کون سا قریہ جو رزم گاہ نہیں؟ متاع ہستی کہاں رکھئے اب بجز مقتل کسی طرف بھی کوئی گوشۂ پناہ […]
بھری بہار میں چھوڑا ہے گلستاں ہم نے سفر میں رہ گئے پیچھے مگر یہ کم ہے کیا ہر ایک موڑ پہ چھوڑے ہیں کچھ نشاں ہم نے تمھارے نام کی افشاں سے جو سجائی تھی کسی کی مانگ میں بھر دی وہ کہکشاں ہم نے بچا کے لائے تھے بس اک چراغ آندھی سے […]
وہ آدمی تو نہ تھا جس نے انحراف کیا ازل سے عالمِ موجود تک سفر کر کے خود اپنے جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا خدا گواہ ، کہ میں نے خود آگہی کے لئے سمجھ کے خود کو حرم، عمر بھر طواف کیا رہیں گے قصرِ عقائد نہ فلسفوں کے محل جو میں نے […]
گھر کے آنگن میں نظر آتے ہیں اب چولہے کئی چار آنکھیں چاہییں اس کی حفاظت کے لیے آنے جانے کے لیے جس گھر میں ہوں رستے کئی
متاعِ دیدہ و دل صرفِ جستجو کرنا گمان تک بھی نہ گزرے کہ غیر شاہد ہے یہ جس کا سجدہ ہے بس اُس کے روبرو کرنا ملیں گے حرفِ عبادت کو نت نئے مفہوم کبھی تم اُس سے اکیلے میں گفتگو کرنا ہزار رہزنِ ایمان سے ملے گی نجات کوئی سفر ہو عقیدت کا قبلہ […]
یہ راستہ لیکن کسی رہبر کی عطا ہے کب میری صفائی کوبھلا مانے گی دنیا الزام ہی جب ایسے فسوں گر کی عطا ہے جچتے نہیں آنکھوں میں شبستان و گلستاں یہ دربدری ایسے کسی در کی عطا ہے ساحل کے خزانے نہیں دامن میں ہمارے جو کچھ بھی ملا، گہرے سمندر کی عطا ہے […]