ضربِ تیشہ سے یوں اعجاز کی صورت جاگے

سینۂ سنگ سے اک موم کی مورت جاگے ٹوٹ جائے مرے مولا یہ جمودِ شب تار کوکبِ بخت چمک جائے مہورت جاگے کاش پڑ جائے مرے غم پہ ہُما کا سایا شعلۂ درد سے عنقا کسی صورت جاگے خواہش حرف ستائش کو تھپک دو ورنہ بن کے اکثر یہ نمائش کی ضرورت جاگے بے غرض […]

وہیں تو عشق رہتا ہے

جہاں ہونے نہ ہونے کی حدیں آپس میں ملتی ہیں جہاں غم گیت گاتے ہیں، جہاں ہر درد ہنستا ہے وہیں ہے گھر محبت کا، وہیں تو عشق رہتا ہے جہاں حدِ نظر تک نیلگوں گہرے سمندر کے سنہری ساحلوں پر دھوپ کوئی نام لکھتی ہے ہوا کی موج بکھرے بادلوں سے رنگ لے لے […]

ہاتھوں میں لئے سنگ کی سوغات چلی ہے

اُترے گی مرے گھر ہی جو بارات چلی ہے ملتے ہیں گھڑی بھر کو دکھانے کے لئے زخم یاروں میں نئی طرزِ ملاقات چلی ہے لگتا ہے کہ افسانۂ رسوائی بنے گی وہ بات جو اغیار سے بے بات چلی ہے جو عشق نے چاہا ہے وہی کر کے دکھایا کب دل کے حضور اپنی […]

طعنۂ سود و زیاں مجھ کو نہ دینا، دیکھو

میرے گھر آؤ کبھی، میرا اثاثہ دیکھو در کشادہ ہے تمہارا مجھے تسلیم مگر مجھ میں جھانکو، کبھی قد میری انا کا دیکھو بس سمجھ لینا اُسے میری سوانح عمری سادہ کاغذ پہ کبھی نام جو اپنا دیکھو اِس خموشی کو مری ہار سمجھنے والو! بات سمجھو، مرے دشمن کا نشانہ دیکھو آج لگتا ہے […]

اپنی قربت کے سب آثار بھی لیتے جانا

اب جو جاؤ در و دیوار بھی لیتے جانا چھوڑ کر جا ہی رہے ہو تو پھر اپنے ہمراہ ساتھ رہنے کا وہ اقرار بھی لیتے جانا دکھ تو ہو گا مگر احساس ہو کم کم شاید جاتے جاتے مرا پندار بھی لیتے جانا بیخودی مجھ سے مری چھین کے جانے والے آگہی کے کڑے […]

تمام رنگ وہی ہیں ترے بگڑ کر بھی

اے میرے شہر تُو اجڑا نہیں اجڑ کر بھی ہیں آندھیاں ہی مقدر تو پھر دعا مانگو شجر زمین پر اپنی رہیں اُکھڑ کر بھی ہم ایسی خاک ہیں اس شہر زرگری میں جسے بدل نہ پائے گا پارس کوئی رگڑ کر بھی ملا ہے اب تو مسلسل ہی روئے جاتا ہے وہ ایک شخص […]

نیم در نیم ہوا، ریت میں سوکھا دریا

آتے آتے مری بستی ہوا صحرا دریا اپنی مٹی میں گُہر اتنے کہاں سے آئے ایسے لگتا ہے یہاں سے کبھی گذرا دریا ایک دو روز کی بارش سے نہیں کچھ ہونا پیاسی مٹی کی ضرورت تو ہے بہتا دریا برف زاروں میں شب و روز جلا کر اپنے قطرہ قطرہ میں نے پگھلا کے […]

قلب ہو جائے جو پتھر تو بشر پتھر کا

پھر تو ہر آدمی آتا ہے نظر پتھر کا سنگباری ہوئی اتنی کہ شرر ہو گیا خون کچھ تو ہونا ہی تھا آخر کو اثر پتھر کا عشقِ بیناکی عنایت ہے یہ ترتیبِ صفات آئنہ چہرہ، بدن پھول، جگر پتھر کا کارِ شیشہ گری نازک سا ہے بالائے سطح زیرِ شیشہ ہے وہی کام مگر […]