بے غرض کرتے رہو کام محبت والے

خود محبت کا ہیں انعام محبت والے لفظ پھولوں کی طرح چن کر اُسے دان کرو اُس پہ جچتے ہیں سبھی نام محبت والے خود کو بیچا تو نہیں میں نے مگر سوچوں گا وہ لگائے تو سہی دام محبت والے دل کی اوطاق میں چوپال جمی رہتی ہے ملنے آتے ہیں سر شام محبت […]

آ کر قریب دیکھو نظاروں کے آس پاس

پت جھڑ چھپے ہیں کتنے بہاروں کے آس پاس اب تک بھٹک رہے ہیں سرابوں کے بیچ میں منزل کے پُر فریب اشاروں کے آس پاس مایوسی اُگ رہی ہے جھلستی زمین پر آکاش چھونے والے چناروں کے آس پاس دریا ہنر کے ریگِ ضرورت میں کھو گئے صحرا کھڑے ہیں پیاسے کناروں کے آس […]

اجرتِ آبلہ پائی بھی نہ دے گا سورج

ہمسفر بن کے اگر ساتھ چلے گا سورج دن نکلنے کا کرشمہ نہ سمجھنا آسان اَن گنت ٹوٹیں گے تارے تو بنے گا سورج سائباں جیسا بھی سر پر ہے غنیمت ہے بہت سر اٹھاؤ گے تو آنکھوں میں چُبھے گا سورج اپنی تابش پہ جنہیں ناز ہے اُن سے کہہ دو شام جب ہو […]

آرزوؤں کا نشانہ ہو گیا

دل مرا آخر دوانہ ہو گیا رہ گئی تھی اک حقیقت آخری عشق بھی آخر فسانہ ہو گیا خواب سے نکلا تو کیا دیکھا کہ وہ خواب ہی میرا پرانا ہو گیا آئنہ چہرے مقابل ہی نہیں خود کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا بجھ گیا ہے دل سرائے کا دیا کارواں شاید روانہ ہو […]

تری نظر نے مرے قلب و جاں کے موسم میں

یقیں کے رنگ بھرے ہیں گماں کے موسم میں زکوٰۃِ درد ہے واجب متاعِ الفت پر حسابِ غم کرو سود و زیاں کے موسم میں نہ اب تلاشِ بہاراں، نہ ڈر خزاؤں کا ٹھہر گیا ہے چمن درمیاں کے موسم میں وہ انتظار کا موسم بہت غنیمت تھا بڑھی ہے تشنگی ابرِ رواں کے موسم […]

طوفان میں جزیرہ ملا ہے، زمیں ملی

پانی کی قید سے تو رہائی نہیں ملی ابر رواں کے پیچھے چلے آئے ہم کہاں بارش ہوئی تو مٹی کی خوشبو نہیں ملی دوزخ سمجھ کے چھوڑی جو تپتی ہوئی زمین چھالے پڑے تو پاؤں کو ٹھنڈک وہیں ملی جھوٹی انا کا تخت، زر مصلحت کا تاج جب کھو دیئے تو دولتِ صدق و […]

سوچا ہے یہ ہم نے تمہیں سوچا نہ کریں گے

ہم تم کو تصور میں بھی رُسوا نہ کریں گے گر تم کو بچھڑنے پہ نہیں کوئی ندامت مل جاؤ تو ہم بھی کوئی شکوہ نہ کریں گے رستے میں اگرچہ ہیں ہواؤں کے نشیمن ہم مشعلِ خود داری کو نیچا نہ کریں گے ہاں ذوقِ سفر بڑھ کے ہے منزل کی ہوس سے ہم […]

غم نیا تھا تو نیا عہدِ وفا رکھنا تھا

حوصلہ غم سے بہرحال سوا رکھنا تھا کیسے اُس پر میں مقدر کی سیاہی رکھتا جس ہتھیلی پہ مجھے رنگِ حنا رکھنا تھا ایسا کیا ڈر تھا بھلا تیز ہوا سے لوگو بجھ گئیں شمعیں تو آنکھوں کو کھُلا رکھنا تھا ہم نہ خوشبو تھے، نہ آواز، نہ بادل کوئی پھر ہواؤں سے تعلق بھلا […]

ہجراں میں در بدر ہوئے ہم قربتوں کے بعد

دے دی گئی زمین ہمیں جنّتوں کے بعد چھینے گا مجھ سے اور غمِ روزگار کیا دامن میں کیا بچا ہے بھلا حسرتوں کے بعد ہو آئے اُس گلی میں تماشہ بنے ہوئے فرصت ملی تھی آج بڑی مدتوں کے بعد معمارِ ارضِ نو بھی وہی لوگ تھے جنہیں اک مشتِ خاک بھی نہ ملی […]

از راہِ دلبری ہمیں آنے دو اپنے پاس

کچھ دیر کو سہی ہمیں آنے دو اپنے پاس رسموں کے زَر محل میں مقید ہو دیر سے در کھولو اب کوئی ہمیں آنے دو اپنے پاس احساس کے ڈگر سے اُتارو خیال میں ایسے کبھی کبھی ہمیں آنے دو اپنے پاس مل بیٹھ کر کریں گے علاجِ غمِ حیات اے جانِ زندگی ہمیں آنے […]