تمھاری گلیوں میں پھر رہے تھے اسیرِ درد و خراب ہجراں
ملی اجازت تو آ گئے پھر حضورِ عشق و جناب ہجراں وہ ملنے جلنے کی ساری رسمیں در اصل فرقت کے سلسلے تھے گئے دنوں کی رفاقتوں میں چھپا ہوا تھا سراب ہجراں مٹے نہیں ہیں حروفِ ظلمت، ابھی گریزاں ہے صبح برات ابھی پڑھیں گے کچھ اور بھی ہم دیارِ غم میں کتاب ہجراں […]