سوچتا ہوں جانے کیوں؟

بے قرار موسم میں کچھ اداس لمحوں میں زندگی کے ہاتھوں میں بے خودی کے گھیرے میں ہر گلی کی نکّر پر ہر ندی کنارے پر میری آنکھ سے بہتے آنسوؤں کے دھارے پر تیرے ساتھ رہنے کا شہر بھر کے چہروں کی سب حسین آنکھوں میں جھانک کر تری خاطر تجھ کو تکتے رہنے […]

نبی کے در پر کھڑے ہوئے ہیں درود پڑھتے ہی جا رہے ہیں

نبی کا حق کیا ادا ہو اس سے ہم اپنی جنت سجا رہے ہیں نبی کی آمد کا ہے تقاضہ نبی کی سنت کا بول بالا نبی کے عاشق ، نبی کی سنت ، حیات اپنی بنا رہے ہیں

چلو اداسی کے پار جائیں

بکھر رہا ہے خیال کوئی سوال کوئی، ملال کوئی کہاں ہے؟ کس کی؟ مجال کوئی کہ آنکھ جھپکے ترے تصور سے دور جائے مگر یہ ضد کہ ضرور جائے تمہارے غم میں سسک سسک کر اکھڑ چکی ہے طناب غم کی مگر کسی کی مجال کیا ہے کہ روک پائے یہ سلسلہ ہائے روزو شب […]

تم کیا جانو!

تم کیا جانو رونے والو درد کہاں،کب کس لمحے کس پور میں آکر اپنا آپ دکھا دیتا ہے تم کیا جانو تم کو تو بس خستہ حال پہ رونا دھونا آتا ہے تم کیا جانو لاوارث سی خواہش کوئی چھپ چھپ کر جب ایک یتیمی کو روتی ہے تم کیا جانو درد سوتیلا بن کر […]

یادوں کا ابر چھایا ہے خالی مکان پر

کیا رنگ روپ آیا ہے خالی مکان پر دیوار و در پہ نقش ہے اک بھولی بسری یاد گزرے دنوں کا سایہ ہے خالی مکان پر ہمسائے لا رہے ہیں اداسی کی کچھ دوا فی الحال دم کرایا ہے خالی مکان پر آسیب کوئی ہے جو اسے چھوڑتا نہیں ہر نسخہ آزمایا ہے خالی مکان […]