یہ قافیے،ردیف اور بحور جتنے ہیں سبھی
یہ پاؤں پڑ کے کہہ رہے ہم آپ کے غلام ہیں
معلیٰ
یہ پاؤں پڑ کے کہہ رہے ہم آپ کے غلام ہیں
صلہ بغاوتوں کا سب غلام جانتے ہیں تو آپ شہر کے مانے ہوئے رفو گر ہیں ؟ بتائیں دل کی سلائی کا کام جانتے ہیں سخن کی کس طرح قیمت وصول کرنی ہے یہ بات کچھ نئے شعراء کرام جانتے ہیں انہیں بتائیں کہ جھکنا یہاں عبادت ہے رکوعِ عشق کو جو بھی قیام جانتے […]
مطلب کہ اپنے آپ سے بھی ان دنوں نہیں
جس کے دشمن سے بھی سنجوگ نکل آتے ہیں
پھر اس کے بعد میں نے بھی اداکاری کی حد کردی
جن کی غمِ حسین میں آنکھیں اداس ہیں
وقتِ مغرب بھی دکھائی دے عزادارِ حسین
کہا بھی تھا کوئی ٹوٹا چراغ روشن کر
ہمیں زرداب ہونا ہے اسی سرسبز موسم میں
دریا یہ سہولت سے کہاں پار ہوئے ہیں وہ شور کہیں مل کے پرندوں نے کیا تھا جس شور پہ ہم نیند سے بیدار ہوئے ہیں اب اپنا ارادہ نہ بدل لینا کہ ہم لوگ۔ مشکل سے اجڑ جانے کو تیار ہوئے ہیں صد شکر کسی کو تو ضرورت ہے ہماری ہم لوگ ترے ہجر […]