محفل میں جو بھی ہے ، ان کا مقام ، جانتے ہیں

صلہ بغاوتوں کا سب غلام جانتے ہیں تو آپ شہر کے مانے ہوئے رفو گر ہیں ؟ بتائیں دل کی سلائی کا کام جانتے ہیں سخن کی کس طرح قیمت وصول کرنی ہے یہ بات کچھ نئے شعراء کرام جانتے ہیں انہیں بتائیں کہ جھکنا یہاں عبادت ہے رکوعِ عشق کو جو بھی قیام جانتے […]

گِرداب ، سفر کے لئے آزار ہوئے ہیں

دریا یہ سہولت سے کہاں پار ہوئے ہیں وہ شور کہیں مل کے پرندوں نے کیا تھا جس شور پہ ہم نیند سے بیدار ہوئے ہیں اب اپنا ارادہ نہ بدل لینا کہ ہم لوگ۔ مشکل سے اجڑ جانے کو تیار ہوئے ہیں صد شکر کسی کو تو ضرورت ہے ہماری ہم لوگ ترے ہجر […]