میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا

میرا کہا پتھر پہ لکیروں کی طرح تھا مجنوں نے بھی تعویز محبت لیے مجھ سے میں عاشقوں کے درمیاں پیروں کی طرح تھا وہ تخت نشیں جب بھی ہوا میں نے گرایا وہ بادشاہ تھا میں بھی فقیروں کی طرح تھا جب جب بھی ہلیں آپ کے ہونٹوں کی کمانیں تو لہجہ و انداز […]

ذرا سا بچ کے چلو کاٹتا ہے، کُتّا ہے

اور عام سا بھی نہیں، باولا ہے، کُتّا ہے یہ اپنے جسم کو پہلے بھنبھوڑ لیتا ہے پھر اپنے زخم کو ہی چاٹتا ہے کُتّا ہے جو مسجدوں سے نمازی نکل کے آتے ہیں یہ ان پہ بار بار بھونکتا ہے، کُتّا ہے کبھی نہ سیدھی ہوئی دُم، تو یہ کہاں ہو گا؟ ہمیں تو […]

یار کی دستک پہ بھی تُو نے یہ پُوچھا: کون ھے ؟

خُود کو عاشق ماننے والا تُو ھوتا کون ھے ؟ اتنا پیارا ھے کہ اُس کے جُھوٹ پر بھی چُپ ھیں لوگ ورنہ سب اُس شخص سے واقف ھیں، بچّہ کون ھے میری غزلیں سُن رھے ھیں تاکہ تیرے خواب آئیں مجھ کو سُننے والے سب تیرے ھیں، میرا کون ھے آ گلے لگ جا […]

اگرچہ یہ چاند پر کسی آدمی کا پہلا قدم نہیں ھے

مگر ترے در پہ میرے پہلے قدم کا چرچا بھی کم نہیں ھے ھمارا غم مُلک بھر میں پَھیلا ھے، کونسی آنکھ نم نہیں ھے ھمارے بندھن کا ٹوٹ جانا سقُوطِ ڈھاکہ سے کم نہیں ھے تُو عشق بھی ھے عقیدہ بھی ھے، مَیں تیری خاطر لڑُوں گا سب سے جو تُجھ کو اچھا نہیں […]