ہر مسافر ہے سہارے تیرے
کشتیاں تیری کنارے تیرے تیرے دامن کو خبر دے کوئی ٹوٹتے رہتے ہیں تارے تیرے دھوپ دریا میں روانی تھی بہت بہہ گئے چاند ستارے تیرے تیرے دروازے کو جنبش نہ ہوئی میں نے سب نام پکارے تیرے بے طلب آنکھوں میں کیا کیا کچھ ہے وہ سمجھتا ہے اشارے تیرے کب پسیجینگے یہ بہرے […]