ذرا ہیں لوگ مُختلف، ذرا سی ہے سِپاہ اور

ہے اِس کا نام "​شہرِدِل”​، ہے دِل کا بادشاہ اور ہے دِل کا اور کربلا، ہے مُختلف فُرات بھی کہ اِس کا ہے حُسین اور، ہے اِس کا ذُوالجِناح اور جو میں نے جِسم و رُوح سب ہی پیش کر دئے اُسے تو عاشِقی نے یہ کہا کہ "​ایک دو گواہ اور”​ وہ ہاتھ جوڑ […]

چَل آ اِک ایسی نظم کہوں ، جو لفظ کہوں وہ ہو جائے

بس’’ اشک‘​‘​ کہوں تو ، اِک آنسو ترے گورے گال کو دھو جائے مَیں’’ آ‘​‘​ لکھوں ، تُو آ جائے، میں ’’بیٹھ‘​‘​ لکھوں ، تُو آ بیٹھے مرے شانے پر سر رکھے تو، مَیں’’نِیند‘​‘​ کہوں ، تُو سو جائے میں کاغذ پر’’تِرے ہونٹ‘​‘​ لکھوں ، تِرے ہونٹوں پر مُسکان آئے میں’’ دِل‘​‘​ لکھوں ، تُو […]

تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا

زخم دل کو کبھی اچھا نہیں ہونے دینا میں تو دشمن کو بھی مشکل میں کمک بھیجوں گا اتنی جلدی اسے پسپا نہیں ہونے دینا تو نے میرا نہیں ہونا ہے تو پھر یاد رہے میں نے تجھ کو بھی کسی کا نہیں ہونے دینا تو نے کتنوں کو نچایا ہے اشاروں پہ مگر میں […]

شہرِ بےرنگ میں کب تُجھ سا نرالا کوئی ھے

تجھ کو دیکھوں تو لگے عالمِ بالا کوئی ھے کبھی گُل ھے، کبھی خوشبو، کبھی سُورج، کبھی چاند حُسنِ جاناں ! ترا اپنا بھی حوالہ کوئی ھے ؟ ھاتھ رکھ دل پہ مِرے اور قسم کھا کے بتا کیا مِری طرح تُجھے چاھنے والا کوئی ھے ؟

زمیں کا رزق ہوا روشنائی کا قطرہ

قلم کی نوک سے اک داستان ٹپکی تھی پھر اس کے بعد رکابوں میں رہ گئے پاوں جنوں کی پشت کو تیرا فراق، تھپکی تھی پگھل سکا نہ مرا منجمد ہراس، بھلے ترے وجود کی لو بار بار لپکی تھی بدل گئے ہیں افق پار تک سبھی منظر گماں نے آنکھ فقط ایک بار جھپکی […]

یاقوت لب کو آنکھ کو تارہ نہ کہہ سکیں

ایسا نہ ہو کہ شعر دوبارہ نہ کہہ سکیں وہ چھب کہ نقرئی کبھی زریں دکھائی دے شعلہ نہ کہہ سکیں جسے پارہ نہ کہہ سکیں سولی کے آسرے پہ ٹکی ہے شکستگی خوش فہمیاں بھی تم کو سہارہ نہ کہہ سکیں ہم کشتگان موج بلا جاں بلب سہی ان دلدلوں کو ہم بھی کنارہ […]

تُو میرے رُوکھے پن پر تلملا نئیں

مَیں جتنا بے مروّت اب ھُوں، تھا نئیں خوشی بےحد سُہانی کیفیت ھے مگر غم سے زیادہ دیرپا نئیں مِرے اشکوں کو مت بہلائیں، جائیں یہ میرا مسئلہ ھے، آپ کا نئیں تو کیا تیرا نہیں ھے تیرا مُنکر ؟ تو کیا تُو اپنے مُنکر کا خُدا نئیں ؟ چلو مانا نہیں جَون ایلیا مَیں […]

الفاظ ڈُھونڈتا ہے مِرے حسب حال کیا؟

دے گا مِرے سوا کوئی میری مثال کیا؟ جاتا عروج ، کیا مرا ، لے کر اجازتیں؟ آتا ہے پوچھ کر بھی کسی کو زوال کیا؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ حیرت ہے آج بھی اک مستقل ملال کا ورنہ ملال کیا؟ بوسیدگی سے خاک ہوئی جب کہ آرزو کیا سہل رہ گیا ہے […]

مَنّت مانی جائے؟ یا کہ دم کروایا جا سکتا ہے؟

ربّا ! میرے سَر سے کیسے عِشق کا سایہ جا سکتا ہے؟ میں تو پیار میں داؤ سے پہلے بھی اِتنا جانتا تھا کہ اِس بازی میں سارے کا سارا سَرمایہ جا سکتا ہے سُن اے پگلی! دُنیا میں عِزّت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا لیکن تیری خاطر تو یہ سب ٹُھکرایا جا سکتا […]

یکسر مبالغہ بھی سخن ساز کا نہ تھا

ہمسر کوئی بھی سُر تری آواز کا نہ تھا سو تجربوں کی کوکھ سے پھوٹی ہے بزدلی یہ خوف مرحلہ کوئی آغاز کا نہ تھا وہ آسماں قبول نہیں تھا جنون کو درپیش مسئلہ مجھے پرواز کا نہ تھا مجھ کو شکوک تھے مرے اپنے نصیب پر منکر وگرنہ میں ترے اعجاز کا نہ تھا […]