ذرا ہیں لوگ مُختلف، ذرا سی ہے سِپاہ اور
ہے اِس کا نام "شہرِدِل”، ہے دِل کا بادشاہ اور ہے دِل کا اور کربلا، ہے مُختلف فُرات بھی کہ اِس کا ہے حُسین اور، ہے اِس کا ذُوالجِناح اور جو میں نے جِسم و رُوح سب ہی پیش کر دئے اُسے تو عاشِقی نے یہ کہا کہ "ایک دو گواہ اور” وہ ہاتھ جوڑ […]