وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ

ہو مرد تو آگے بڑھ کے مجھ کو گلے لگاؤ مجھے مناؤ میں کل سے ناراض ہوں قسم سے اور ایک کونے میں جا پڑی ہوں ہاں میں غلط ہوں دکھاؤ پھر بھی تمہی جھکاؤ مجھے مناؤ تمہارے نخروں سے اپنی ان بن تو بڑھتی جائے گی سن رہے ہو تم ایک سوری سے ختم […]

تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں

مری بے خواب آنکھوں میں تمہارے خواب سوتے ہیں تھپکتی تھیں تلاطم خیز موجیں ایک مدت سے سفینے اب مرے ہمراہ زیر آب سوتے ہیں کھڑا ہوں سونت کر تلوار اب تک معرکہ گہ میں میں پہرہ دے رہا ہوں کہ مرے احباب سوتے ہیں بدن کو چھیدتے کنکر یہیں رہ جائیں گے سارے ردائے […]

جنتِ گم کشتہ

ائے جنتِ گم گشتہ اک اور بلاوا دے ہم شہر بدر کب سے بے سمت بھٹکتے ہیں بے جان زمینوں پر ، بے کار سفر کرتے تھک ہار گئے آخر رستوں نے لہُو چُوسا ، غم مار گئے آخر اک عمر تلک ہم نے خود کو یہی سمجھایا مڑنے کو مچلتا دل اس بات سے […]

خواب ہوں ، خواب کا گماں ہوں میں

شعر کی نبض ہوں ، رواں ہوں میں ہر طرف تُو ہی تُو ہے ، گویا کہ میں کہیں بھی نہیں ، کہاں ہوں میں ایک لمحہ بچا ہوں ، سو وہ بھی ہر حوالے سے رائیگاں ہوں میں تھک گئے ہو تو داستاں گو ہوں سُن رہے ہو تو داستاں ہوں میں اور متروک […]

کیوں ہوش رُباء وقت ترے خواب مٹائے

بہتر ہے کہ اب دل کو جگایا ہی نہ جائے کل شب مجھے سنگسار کیا جائے گا لوگو جس شخص کو بھی مجھ سےشکایت ہووہ آئے تُو لوحِ تخیل پہ کہں نقش تھا ، سو ہے یوں تو غمِ دوراں نے کئی باب بھلائے ہوتا گیا روشن ، پسِ دیوار وہ جتنا اتنا ہی مری […]

یہ لال ڈبیا میں جو پڑی ہے وہ منہ دکھائی پڑی رہے گی

جو میں بھی روٹھا تو صبح تک تو سجی سجائی پڑی رہے گی نہ تو نے پہنے جو اپنے ہاتھوں میں میری ان انگلیوں کے کنگن تو سوچ لے کتنی سونی سونی تری کلائی پڑی رہے گی ہمارے گھر سے یوں بھاگ جانے پہ کیا بنے گا میں سوچتا ہوں محلے بھر میں کئی مہینوں […]

برف کے فرش پہ قدموں کو جما کر کھینچوں

عمر کا بوجھ مری جان دعا کر کھینچوں دم جو گھٹتا ہے بہر طور گھٹا جاتا ہے یوں تو میں سانس بہت زور لگا کر کھینچوں ایک منظر کہ جسے دید لٹا کر دیکھا اس کا نقشہ ہے کہ آواز گنوا کر کھینچوں اس سرے سے بھی مری لاش گھسٹتی آئے میں اگر خواب کو […]

آخری سپاہی

ماند پڑتے ہوئے شعلوں میں پگھلتے خیمے جاء بجا بکھرے ہوئے خون میں ڈوبے لاشے اور وہ ہتھیار ، جو مالک کے جواں سینے کو آخری وار کے عالم میں نہیں ڈھانپ سکے خاک اور خون میں غلطیدہ ، دریدہ پرچم اپنی ناموس پہ کٹتے ہوئے لوگوں کی طرح صرف اک لاش ہے اب جس […]

(بدن)

یہ تارِ عنکبُوت کہ بدن کہا گیا جسے بڑا عجیب جال ہے کہ جس کی زد میں آ گئے تو جیسے ایک ہاتھ نے تمام منطقیں بجھا کے راکھ میں سمیٹ دیں شعور کی بچھی ہوئی سبھی صفیں لپیٹ دیں بدن ہے ایک شعبدہ کہ جس کے دائرے میں ہر فریب بھی یقین ہے خطا […]

تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں

کس طور سے لٹتی ہوئی جاگیر سنبھالوں جھنکار کی آواز بھی ہے جرم ، سو اب میں پازیب کبھی ، حلقہ زنجیر سنبھالوں تو کون ہے قاتل کہ مسیحا ہے کُھلے تو میں کاسہ امید کہ شمشیر سنبھالوں ٹھہرا ہو رسومات کو جب عجز بھی زلت دستار سنبھالوں کہ دساتیر سنبھالوں اب سینہ صد چاک […]