خواب کدھر چلا گیا ؟ یاد کہاں سما گئی ؟
چشم و چراغِ عشق کو کون ھوا بُجھا گئی ؟ ھجر تو جاگتا رھا رُوح کے درد زار میں جسم کی خواب گاہ میں وصل کو نیند آ گئی وقت نے ختم کردیے سارے وسیلے شوق کے دل تھا، اُلٹ پلٹ گیا ! آنکھ تھی، بُجھ بُجھا گئی نرم لبوں سے سخت بات ایسے ادا […]