خواب کدھر چلا گیا ؟ یاد کہاں سما گئی ؟

چشم و چراغِ عشق کو کون ھوا بُجھا گئی ؟ ھجر تو جاگتا رھا رُوح کے درد زار میں جسم کی خواب گاہ میں وصل کو نیند آ گئی وقت نے ختم کردیے سارے وسیلے شوق کے دل تھا، اُلٹ پلٹ گیا ! آنکھ تھی، بُجھ بُجھا گئی نرم لبوں سے سخت بات ایسے ادا […]

نشے میں ڈُوب گیا مَیں ، فضا ھی ایسی تھی

دیارِ حُسن کی آب و ھوا ھی ایسی تھی نہال کر دیا پلکوں کی اوٹ سے مجھ کو نگاہِ یار ! تری کم نگاھی ایسی تھی ھماری پُوری گواھی بھی معتبر نہ رھی کسی حسِین کی آدھی گواھی ایسی تھی بدن کی شاخ پہ ایک آدھ پھُول بھی نہ رھا ھوائے موسمِ ھجراں بلا ھی […]

چمکتے اشکوں کی تسبیح لے کے ہاتھوں میں

میں تجھ کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں طاق راتوں میں وہ ہنس رہا تھا مگر سُن کے رو پڑا میں تو بڑی شدید اُداسی تھی اُس کی باتوں میں کچھ اِس لیے بھی ہے میری غزل میں سُرخی سی میں بھرتا رہتا ہوں اپنا لہو دواتوں میں چلو یہ مانا تری جیت ہے عظیم مگر ہماری […]

کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا

مرے تڑپتے ھوئے دِل ! مَیں کیا کرُوں تیرا ؟ بھُلا دِیا مجھے تُونے اگرچہ دم بھر میں دُعا ھے آخری دم تک مَیں دم بھروں تیرا طلسمِ ہوشرُبا سے بھی کچھ زیادہ تیز جمالِ یار ! بہت تیز ھے فسُوں تیرا دیے جلاوؑں گا ، اے دوست ! اپنی آنکھوں کے تُو آئے گا […]

گر چاہتے ہو حسرتِ ناکام دیکھنا

بُجھتے دیے کی لَو کو سرِ شام دیکھنا تھوڑی ہے زندگی مگر آغاز تو کرو لازم نہیں ہے عشق کا انجام دیکھنا میں سجدہ ریز ہوں مرے مسلک میں ہی نہیں چوکھٹ سے سر اُٹھا کے سرِ بام دیکھنا میں تو وہاں بھی سب سے زیادہ ہوں کسمپرس فہرستِ بے کساں میں مرا نام دیکھنا […]

کیا مرے دکھ کی دوا لکھو گے

چارہ گر ضبط کو کیا لکھو گے سامنا بھی تو نہیں ہو سکتا تم مجھے خط بھی کہاں لکھو گے لفظ میرے ہی مری ہستی ہیں میں ہی اتروں گا جہاں لکھو گے دیکھ سکتا ہوں نہ سُن سکتا ہوں دوستو اب مجھے کیا لکھو گے سانس لے کر بھی نہیں جی سکتے کب ہمیں […]

میرے دل سے جدا نہیں ہے نا

تو مجھے بھولتا نہیں ہے نا پھیر لوں کس طرح نگاہوں کو یار دل کا برا نہیں ہے نا وہ نہیں ہے تو کوئی اور سہی دل مگر مانتا نہیں ہے نا میں کہیں رکھ کے بھول بیٹھا ہوں دل جہاں تھا وہاں نہیں ہے نا زینؔ پھر سے پکار لو اس کو اس نے […]

گِھر گِھر آئے پگلے بادل ، برسی میگھا سانوری

گائے پپیہا ، ناچے پُروا ، کُوکے کوئل بانوری میں بِرہا کی ماری ناری سپنے دیکھوں پریت کے کجرا رے نینوں میں دمکیں تیور گھبرو مِیت کے !بستی بستی پیٹ ڈھنڈورا، او ری سکھی من موہنی کرشن پیا کی دُوری سے اَدھ موئی ہے رادھا سوہنی موہے ساجن! مانگ میں جب سیندور نہیں ترے نام […]

انگور سے پہنچا تھا نہ انجیر سے پہنچا

مُحمّد اظہار الحق اور ثروت حُسین کے لیے(اُنہی کی زمین میں ھدیۂ محبت) انگور سے پہنچا تھا نہ انجیر سے پہنچا رس رُوح تلک بوسے کی تاثیر سے پہنچا پھر مُند گئیں دروازے کو تکتی ھُوئی آنکھیں پیغام رساں تھوڑی سی تاخیر سے پہنچا عُجلت میں پڑے لڑکو ! سُنو میری کہانی مَیں عشق تلک […]

ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں

گناہگارو ! تمہارا گناہ کوئی نہیں فصیل و بام نہ دیوار و در نہ بندِ قبا نگاہِ عشق میں حدِ نگاہ کوئی نہیں ترے بدن سے مرے دل تلک ہیں خواب ہی خواب مگر ہمارے لیے خوابگاہ کوئی نہیں ہماری خاک کرے گی سفر ستارہ وار ہماری آخری آرام گاہ کوئی نہیں پھر ایک دن […]