کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا

کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا

مرے تڑپتے ھوئے دِل ! مَیں کیا کرُوں تیرا ؟

 

بھُلا دِیا مجھے تُونے اگرچہ دم بھر میں

دُعا ھے آخری دم تک مَیں دم بھروں تیرا

 

طلسمِ ہوشرُبا سے بھی کچھ زیادہ تیز

جمالِ یار ! بہت تیز ھے فسُوں تیرا

 

دیے جلاوؑں گا ، اے دوست ! اپنی آنکھوں کے

تُو آئے گا تو سواگت کروں گا یُوں تیرا

 

تُو میرے واسطے ممنوع پھل سہی لیکن

مجھے یہ دُھن ھے کہ میں ذائقہ چکھوں تیرا

 

مَیں تیرے زُعم کا تختہ اُلٹ بھی سکتا ھوں

یہ اور بات کہ ادنیٰ غُلام ھوں تیرا

 

دیارِ یار کی گلیوں میں جا کے رو ، فارس

وہیں قرار ھے تیرا ، وہیں سکوں تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا
پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو
میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا
گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے
مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
خاک تھا ، جزو ِ خاکداں ٹھہرا
نظر میں برق سی اِک ثانئے کو لہرائی
حرف نادم ہوئے بیاں ہوکر