فرمایا ھے پیَمبرِ امن و سلام نے

بکرا بھی ذبح کرنا ھو گر خاص و عام نے آجائیں اُس کے میمنے گر اُس کو تھامنے مت جانور کی جان لو بچوں کے سامنے پھر کس نے والدین پہ خنجر چلا دیا ؟ روتے رھے مُنیبہ، عُمیر اور ھادیہ اب کون اِن کو لوریاں دے کر سُلائے گا ؟ کون اِن کو اپنی […]

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا

یہی مصرعہ مِرا اعلان تھا، ھے اور رھے گا سپاھی ڈھونڈتے پھرتے ھیں جس کو شہر بھر میں وھی باغی مِرا مہمان تھا، ھے اور رھے گا تُجھے مِل تو نہیں پایا مگر مَیں جانتا ھُوں کہ تُجھ میں عشق کا امکان تھا، ھے اور رھے گا کسی کو اپنے دل کی مُستقل ٹھنڈک نہ […]

نظر اٹھائیں تو کیا کیا فسانہ بنتا ہے

سو پیش یار نگاہیں جھکانا بنتا ہے وہ لاکھ بے خبر و بے وفا سہی لیکن طلب کِیا ہے گر اس نے تو جانا بنتا ہے رگوں تلک اتر آئی ہے ظلمت شب غم سو اب چراغ نہیں دل جلانا بنتا ہے پرائی آگ مرا گھر جلا رہی ہے سو اب خموش رہنا نہیں غل […]

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے

تُمہاری اپنی ھی نیّت میں دھاندلی ھُوئی ھے گناہ گار تو دوزخ میں بھی کہیں گے یہی حسابِ روزِ قیامت میں دھاندلی ھُوئی ھے ھماری آھوں کی گنتی دوبارہ کرواؤ ھمارے ساتھ محبت میں دھاندلی ھُوئی ھے مَیں اپنے عشق میں گُم ھُوں، مِری بلا جانے نہیں ھُوئی کہ سیاست میں دھاندلی ھُوئی ھے وہ […]

وداعِ یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں

میں خود تو زندہ رہا وقت مر گیا مجھ میں سکوت شام میں چیخیں سنائی دیتی ہیں تو جاتے جاتے عجب شور بھر گیا مجھ میں وہ پہلے صرف مری آنکھ میں سمایا تھا پھر ایک روز رگوں تک اتر گیا مجھ میں کچھ ایسے دھیان میں چہرہ ترا طلوع ہوا غروب شام کا منظر […]

پہلے پُکارتے تھے مُجھے گالیوں کے ساتھ

پھر تھک گئے، بُلانے لگے تالیوں کے ساتھ اِن لڑکیوں کے بھیس میں پریاں بھی ھیں بہت مت بیٹھیو اُداس بدن والیوں کے ساتھ چَھن چَھن کے آ رھی تھی اُس اُجلے بدن کی آنچ پوشاک تھی سیَاہ مگر جالیوں کے ساتھ ھمدم نہ ھو تو کیا بھلا پینے کا فائدہ ؟ بیٹھا ھُوں کب […]

کہانی ختم ھوگی ؟ یا تماشا ھونے والا ھے ؟

کسے معلُوم ھے فارس یہاں کیا ھونے والا ھے پرندے، چیونٹیاں اور لوگ ھجرت کرتے جاتے ھیں ھمارے شہر میں کیا حشر برپا ھونے والا ھے ؟ ذخیرہ کرلو آنسُو اپنی آنکھوں کے کٹوروں میں یہاں اب پانی مہنگا، خُون سستا ھونے والا ھے تو کیا ھم لوگ پھر سے دھوکا نامی تیر کھائیں گے […]