پھول اس واسطے کھلتا ھے کہ تُو دیکھے اسے
موسم اس واسطے اچھا ھے کہ تُو سیر کرے
معلیٰ
موسم اس واسطے اچھا ھے کہ تُو سیر کرے
دل سے لے کر منہ تلک امڈا ہوا اک درد ہے
تبدیل اپنے دل کی جگہ کر رہے ہیں ہم
یہ کـسی وقت ترے کام بھی آ جائے گی
دیکھے تو کوئی جبر مِرے اختیار کے
اور سینہ ہے ایک دم بیزار
اک تُُـم ہو کہ پہــلُو میں ٹھہــرنا نہیں آتا
تو ہمنشینی سود مند بھی نہیں ہے
تجھ سا حسیں ہو، اور نہ دل بے قرار ہو
اہلِ دل کس نگر میں رہتے ہیں