ایک سے کیسے دل لگاؤں میں
چاند پھرتے ہیں ہر طرف میرے
معلیٰ
چاند پھرتے ہیں ہر طرف میرے
اب کہاں لے جا کے بیٹھیں ایسے دیوانے کو ہم
لگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں
جان ہی جائے تو جائے درد دل اک یہی ہے اب دوائے درد دل بھاگتی ہے دور جس سے موت بھی وہ بلا ہے یہ بلائے درد دل
کریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے؟
پھر بھی اک ہوک سی اُٹھے جو ترا نام سُنوں
تم تو کہتے تھے برا وقت گزر جاتا ہے
دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں
ہوتے ہوتے مرے قابو میں طبیعت ہوگی
یہ تیرے اختیار سے پہلے کی بات ہے