یہ شہر والے بھی توبہ تائب دکھائی دیں گے

وہ ایک جادو کرے گا ، غائب ، دکھائی دیں گے ہماری آنکھوں پہ اسم پھونکا گیا ہے صاحب ہمیں زمانے کے سب معائب دکھائی دیں گے ہماری رائے ہے معتبر اس کو رد نہ کرنا یہ مشورے عنقریب صائب دکھائی دیں گے یہاں خدا کی تو ایک سنتا نہیں ہے کوئی یہاں پہ سب […]

آگ

گلوں میں لالۂ و سرو سمن میں آگ لگی لگائی کس نے کہ سارے چمن میں آگ لگی مجیب بد نظر و بد سرشت و ابن الوقت اسی خبیث کے ہاتھوں وطن میں آگ لگی سلگ رہی تھی جو دل میں حسد کی چنگاری لہک اٹھی تو ہر اک موئے تن میں آگ لگی خلافِ […]

انتخاب 1988ء

قوم تھی یہ جس کی خاطر ایک مدت سے بضد انتخابِ عام آخر ہو گیا وہ منعقد صبح کو سولہ نومبر کی تھا میلے کا سماں ووٹ دینے آئے تھے سب مرد و زن پیر و جواں ہر طرح کے لوگ تھے سب میں تھا اک جوش و خروش تھے وفادارانِ ملت اور تھے ملت […]

رخصتی

(بیٹی) نورِ عینی لختِ دل پاکیزہ سیرت نیک نام بنتِ خوش اختر مری ہوتا ہوں تجھ سے ہم کلام عقد تیرا کر دیا بر سنتِ خیر الانام آج تو ہم سے جدا ہو جائے گی تا وقتِ شام دل میں اک طوفانِ غم ہے روح میں اک اضطراب ہے طبیعت میں تکدر بے نہایت بے […]

سقوطِ ڈھاکہ

دل آج ہے رنجور ز نیرنگی حالات آنکھوں سے رواں اشک ہیں مجروح ہیں جذبات مسلم پہ ہے کیسی مرے اللہ یہ افتاد مائل بہ ستم اس پہ ہے چرخِ ستم ایجاد بربادی احوال یہ کس طرح رقم ہو قابو میں نہ جذبات ہوں جب شدتِ غم ہو بنگال میں سنتے ہیں قیامت کا سماں […]

فسادِ بنگال

گل و صنوبر و سرو سمن میں آگ لگی پرِ عنادلِ شیریں دہن میں آگ لگی دھواں ہے شعلے ہیں سارے چمن میں آگ لگی تری پناہ خدایا وطن میں آگ لگی چمن سے اہلِ چمن کی عداوتیں توبہ خود اپنی قوم و وطن سے عداوتیں توبہ حسد کی آگ میں جل کر شرارتیں توبہ […]

صبحِ غم بسلسلۂ مرگِ زوجۂ دوم (1980ء)

دلِ بر گشتہ قسمت کی پریشانی نہیں جاتی ملا وہ غم کہ جس کی شعلہ سامانی نہیں جاتی نہ بھولے گا وہ صبحِ غم دلِ رنجور و صد پارا شبستانِ محبت کی بجھی جب شمع دل آرا لیا دستِ قضا نے چھین تم کو اے وفا پیکر کفِ افسوس ملتا رہ گیا اپنا دلِ مضطر […]

آنسو بہا نہ غم کے تو ،آہ نہ بار بار کر

اس دلِ سوگوار کو اور نہ سوگوار کر سلسلہ ہائے غم بہت ان کا نہیں شمار کچھ دن یہ تری حیات کے کتنے ہیں اب شمار کر آہوں کو کر شرر فشاں، نالوں کو شعلہ بار کر دردِ نہاں کی کیفیت دنیا پہ آشکار کر اٹھنے کا بارِ معصیت تجھ سے کہاں ہے یہ نظرؔ […]

اس چہرۂ حسیں کا خیالِ حسیں رہے

دل میں کھلی سدا یہ کتابِ مبیں رہے گلشن پسند ہم تھے پہ صحرا نشیں رہے اندوہگیں سے ہائے ہم اندوہگیں رہے سر مستی و سرور کا اس کے ٹھکانہ کیا جس دل کی سمت وہ نگہِ سرمگیں رہے خاکی تھے ہم تو خاک سے نسبت نہیں گئی روئے زمیں سے اٹّھے تو زیرِ زمیں […]