نہیں جناب ، کسی اور کی امانت ہیں

ہمارے خواب کسی اور کی امانت ہیں ہمیں یہ کہہ کے اداسی نے کردیا پھیکا یہ رنگ و آب کسی اور کی امانت ہیں دنوں مہینوں رتوں اور موسموں میں کٹے یہ سب حساب کسی اور کی امانت ہیں سوال ، عشق کا کرنے سے پیشتر سن لے مرے جواب کسی اور کی امانت ہیں […]

ہونے ہیں شکستہ ابھی اعصاب ، لگی شرط

دھتکارنے والی ہوں میں سب خواب ، لگی شرط اے شام کے بھٹکے ہوئے ماہتاب ، سنبھل کر ہے گھات میں بستی کا یہ تالاب ، لگی شرط اچھا تو وہ تسخیر نہیں ہوتا کسی سے یہ بات ہے تو آج سے احباب ، لگی شرط پھر ایک اسے فون میں رو رو کے کروں […]

یوں ترے نام کی تسبیح پڑھا کرتے ہیں

جیسے مسجد میں تروایح پڑھا کرتے ہیں یوسفِ عشق تجھے علم ہے کس رغبت سے دل کے مکتب میں یہ تلمیح پڑھا کرتے ہیں پہلی فہرست میں بس آپ کا نام آتا ہے پھول چہروں کی جو تشبیہ پڑھا کرتے ہیں آپ فرقت ہی لکھا کرتے ہیں ہر کاغذ پر اور ہم وصل کو ترجیح […]