نیلی جھیل کنارے ہے اس بھید بھری کا گاؤں
جس کے خدّو خال میں چمکے ٹھنڈی میٹھی چھاؤں روپ سروپ سراپا کندن، کیا ماتھا، کیا پاؤں عشق کی کومل تال پہ ہم تھے کتنے مست مگن رنگ، بہار، گلاب، پرندے، چاند، شراب، پَوَن سانولی سُندرتا کی دُھن میں گُم تھے تن من دھن وقت پھر آگے ایسا آیا، پیچھے پڑ گئے لوگ آنکھ جھپکتے […]