نکتہ وروں نے ہم کوسمجھایاخاص بنو اور عام رہو
نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا، خاص بنو اور عام رہو محفل محفل صحبت رکھو، دنیا میں گمنام رہو
معلیٰ
نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا، خاص بنو اور عام رہو محفل محفل صحبت رکھو، دنیا میں گمنام رہو
نہ دید ہے نہ سخن، اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلہ تسکین نہیں اور آس بہت ہے اُمیدِ یار، نظر کا مزاج، درد کا رنگ تم آج کچھ بھی نہ پُوچھو کہ دل اُداس بہت ہے
نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا موسم آۓ ہی نہیں اب کے گلابوں والے
اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
اب وقت پوچھتا ہے ، جوانی کدھر گئی
ایک دیوار کے گرنے کی خبر آئی ہے
چھپ کر نگاہِ شوق سے دل میں پناہ لی دل میں نہ چھُپ سکے تو رگِ جاں میں آ گئے
یاد کرنے کے لیئے عمر پڑی ہو جیسے تیرے ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی مگر یہ گرہ اب کے مرے دل میں پڑی ہو جیسے
گھر جانے کی اتنی جلدی ؟ قصے گھڑ کے راز چھپایا خاموشی نے بات اگل دی ڈوب کے سورج کی کرنوں نے شب کے منہ پر کالک مل دی ڈر کے ایک چراغ بجھایا جب تجویز ہوا نے کل دی عشقا تجھ سے ہرجائی نے اک تکلیف مجھے پل پل دی تم نے اپنا چہرہ […]