کیوں لوگوں سے مہرو وفا کی آس لگائے بیٹھے ہو
کیوں لوگوں سے مہر و وفا کی آس لگائے بیٹھے ہو جھوٹ کے اس مکروہ نگر میں لوگوں کا کردار کہاں
معلیٰ
کیوں لوگوں سے مہر و وفا کی آس لگائے بیٹھے ہو جھوٹ کے اس مکروہ نگر میں لوگوں کا کردار کہاں
جب بھی کوئی اپنی عمر کا جاتا ہے
یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
ہمارا شانہ کسی نئے غم سے لگ نہ جائے یہ سرد چہرہ سلگ رہا ہے عجب تپش ہے کہ آگ آنکھوں کے بہتے اس نم سے لگ نہ جائے کچھ اس لئے بھی میں یہ تعلق نبھا رہی ہوں وہ شخص بستر سے ، اب مرے غم سے لگ نہ جائے ذرا ذرا سے ہمیں […]
مرا بدن تری انگڑائیوں نے توڑ دیا
ہم ہوئے کیسے جدا یاد نہیں ایک شعلہ سا اٹھا تھا دل میں جانے کس کی تھی صدا یاد نہیں ایک نغمہ سا سنا تھا میں نے کون تھا شعلہ نوا یاد نہیں روز دہراتے تھے افسانۂ دل کس طرح بھول گیا یاد نہیں اک فقط یاد ہے جانا ان کا اور کچھ اس کے […]
چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر شہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو تیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی […]
تو یہی آج کل سدھارے ہم مرتے رہتے تھے اس پہ یوں پر اب جا لگے گور کے کنارے ہم دن گذرتا ہے دم شماری میں شب کو رہتے ہیں گنتے تارے ہم ہے مروت سے اپنی وحشت دور انس رکھتے ہیں تم سے پیارے ہم زندگی بار دوش آج ہے یاں دیکھیں گے کل […]
کون اس صحرا میں اس بیکس کا ہو گا غمگسار