کومل کھرونچیں درد کی لگتی ہیں بدنما
تو قہقہوں کی شال سے چہرے کو ڈھانپ لے
معلیٰ
تو قہقہوں کی شال سے چہرے کو ڈھانپ لے
کپڑے ، جوتے ، نوکر ، چاکر خوش ہوں میں ٹھوکر مار کے چاک کے ٹکڑے کر ڈالے خود اپنی ہی خاک اڑا کر خوش ہوں میں دیکھ فقیرا خوشیاں اچھی خاصی ہیں تو اب کوئی اور دعا کر ، خوش ہوں میں دل کی آج بھڑاس نکالی ایسے بھی شیشے کا گلدان گرا کر […]
یہ بھی غم حسین کا آنکھوں پہ قرض ہے
ہائے یہ رنج محبت کہ جسے پانے میں میں نے اک عمر کمائی ہوئی عزت اپنی چند لمحوں کی رفاقت پہ نچھاور کردی میں بھی اوروں کی طرح عام سی لڑکی نکلی وہ مرا زعم مرا مان دکھاوا نکلا مجھ کو لگتا تھا مرا دل بھی کوئی پتھر ہے جس پہ آہوں کا اثر ہے […]
درد کو دل میں چھپا کے رکھتے ہیں
سر اٹھاؤ ، تو ہاتھ اٹھتے ہیں اور میں باغی ، قلم اٹھاتی ہوں
یہ دل کا درد جو آنکھوں میں آ گیا ہے مری میں چاہتا تھا مرے قہقہوں میں گم ہو جائے
یہ کیسے لوگ ہیں زم زم سے دھل کر بھی نہ ان کے پاپ گھٹتے ہیں نہ من کا میل جاتا ہے خدارا گل چکی روحوں کو دفنا دو کہ مردے دیر تک بے گور رکھنے سے تعفن پھیل جاتا ہے
آ عالم حالت دیکھ مری مجھے گنجل گنجل کرڈالا اس عشق کے ظالم سائے نے آسیب نے سب ویران کیا یہ خون رگوں میں ٹھہرا ہے اب دھڑکن رک رک جاتی ہے اب سانسیں تھک کر چور ہوئیں یہ آنکھیں اب بے نور ہوئیں تسبیح کے دانے رولے ہیں سو بار مصلے کھولے ہیں ہر […]
اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم