میں جانتی تھی تعلق کی آخری شب ہے
میں جانتی تھی تعلق کی آخری شب ہے سو شب بخیر نہیں کہہ سکی میں آخر میں لرز رہے تھے مرے ہاتھ کانپتا تھا وجود حصار ذات میں کتنی دراڑیں پڑ گئی تھیں میں جانتی تھی کہ اگلی صبح اذیت ہے محبتوں کے گلابوں کی عمر اتنی تھی ابھی خزاؤں کی آمد ہے دل کے […]