جنتر منتر دھاگے شاگے جادو ٹونے والوں نے

تیری خاطر کیا کیا سیکھا تجھ کو کھونے والوں نے ایک طلسمی سرگوشی پر میں نے مڑ کر دیکھا تھا مجھ کو پتھر ہوتے دیکھا پتھر ہونے والوں نے اچھے کی امید پہ کتنے مشکل دن کٹ جاتے ہیں خواب محل کے دیکھے اکثر خاک پہ سونے والوں نے کتنی ماوں نے بچوں کو باتوں […]

روز دیتا ہے جنوں میرا ، دہائی صاحب

موجۂ ہجر نے پکڑی جو کلائی صاحب ہو نہ ہو یہ کسی دشمن کا کِیا لگتا ہے ورنہ مقتل تو سجاتے نہیں بھائی ، صاحب اپنی سوچوں کو بدلنے سے سماں بدلے گا ٹھہرے پانی پہ تو جم جاتی ہے کائی صاحب تھا ہُنر میرا کہ محفوظ رکھا آئینہ ورنہ لمحوں نے بہت دھول اُڑائی […]