میں رسمِ بغاوت کو ابھی آگ لگادوں

اس دل کی عداوت کو ابھی آگ لگادوں جو مفت میں یہ رنج و الم بانٹ رہا ہے اس شہرِ سخاوت کو ابھی آگ لگادوں شیرینیء گفتار کے پیچھے ہے بہت کچھ لہجے کی حلاوت کو ابھی آگ لگادوں آیا ہے مجھے کارڈ تری رسم- حنا کا اس ہجر کی دعوت کو ابھی آگ لگا […]

وحشتوں کی سبیل ہوتے تھے

دکھ کے منظر طویل ہوتے تھے ہجر چابک تھا پشت پہ پڑتا اور چابک میں کیل ہوتے تھے لالیاں کھا گیا مری یہ دکھ کب یوں آنکھوں میں نیل ہوتے تھے منزلوں کا پتہ دیا اس کو ہم فقط سنگ میل ہوتے تھے خواہشیں تھیں کثیر بچوں کی اور وسائل قلیل ہوتے تھے دل تو […]