سنا کے روز اک قصہ کسی جدائی کا
ذرا ذرا اسے مضبوط کررہی ہوں میں
معلیٰ
ذرا ذرا اسے مضبوط کررہی ہوں میں
بیرونی طاقتوں کا دباؤ نہیں قبول یہ عشق ہے ، نکاح کی تقریب تو نہیں کیسے کہوں قبول ہے ؟ جاؤ ، نہیں قبول
مر گئے جن کے چاہنے والے اُن حسِینوں کی زندگی کیا ہے ؟
مرضِ عشق کی شاید ہو پسِ مرگ شفا زندگی میں تو یہ آزار نہیں جانے کا
نجانے مجھ سے کیوں خلق خدا ناراض رہتی ہے کسی نے ان سے پوچھا آجکل کومل کہاں گم ہے؟ بڑا بے زار سا ہو کر کہا " ناراض رہتی ہے "
جس نجومی کو دکھایا ہے وہی ایک جواب وہ مقدر کا ستارہ ہے نہ ہو سکتا ہے پوری دنیا بھلے پاؤں میں پڑی ہو لیکن ایک وہ شخص تمہارا ہے نہ ہو سکتا ہے
اس دل کی عداوت کو ابھی آگ لگادوں جو مفت میں یہ رنج و الم بانٹ رہا ہے اس شہرِ سخاوت کو ابھی آگ لگادوں شیرینیء گفتار کے پیچھے ہے بہت کچھ لہجے کی حلاوت کو ابھی آگ لگادوں آیا ہے مجھے کارڈ تری رسم- حنا کا اس ہجر کی دعوت کو ابھی آگ لگا […]
دکھ کے منظر طویل ہوتے تھے ہجر چابک تھا پشت پہ پڑتا اور چابک میں کیل ہوتے تھے لالیاں کھا گیا مری یہ دکھ کب یوں آنکھوں میں نیل ہوتے تھے منزلوں کا پتہ دیا اس کو ہم فقط سنگ میل ہوتے تھے خواہشیں تھیں کثیر بچوں کی اور وسائل قلیل ہوتے تھے دل تو […]
میں نے پروین کی انکار وہاں رکھ دی ہے
آپ کرتے میں سج رہے ہیں جناب کیا یہ سرگوشی آپ کی نہیں ہے ؟ کیا مرے کان بج رہے ہیں جناب ؟