کئیں شام نماشاں ویلے دا

ہک درد کھڑوتے ویہڑے وچ کئیں ہنجواں دے ہن ڈیوے جو اکھیاں تے بلدے بجھدے ہن کئیں کالی ہجر دی ڈینڑ کھڑی ہے ، بکل مار ڈریندی ہے کئیں روگ کھڑن دہلیز اتے دروازہ بھن کے آ ویندن میں روز اساراں کندھ اندروں یاجوج بنڑے ڈکھ کھا ویندن میں نت آکھاں ، بھاء لانواں چا […]

کانٹا ہے اور گلاب پہ انگلی اٹھائے گا ؟

یعنی تو میرے خواب پہ انگلی اٹھائے گا ؟ اپنی اداسیوں کا مت الزام اس پہ ڈال ہر شخص ماہتاب پہ انگلی اٹھائے گا پھر امتحان عشق کا منکر کہیں گے لوگ تو بھی اگر چناب پہ انگلی اٹھائے گا ایسا اصول مجھ کو ہے ہرگز نہیں قبول اچھا ہے جو ، خراب پہ انگلی […]

اسی کو ترک وفا کا گماں ستانے لگے

اُسی کو ترکِ وفا کا ، گُماں ستانے لگے جسے بھلاؤں تو ، کچھ اور یاد آنے لگے اِسے سنبھال کے رکھو , خزاں میں لَو دے گی یہ خاکِ لالہ و گُل ھے , کہیں ٹھکانے لگے تجھے میں اپنی مُحبت سے , ھٹ کے دیکھ سکوں یہاں تک آنے میں مجھ کو , […]