دکھ کسی کو سنا نہ دیتی تو
مر ہی جاتی صدا نہ دیتی تو وہ کسی کا بھی ہوگیا ہوتا میں اگر بددعا نہ دیتی تو
معلیٰ
مر ہی جاتی صدا نہ دیتی تو وہ کسی کا بھی ہوگیا ہوتا میں اگر بددعا نہ دیتی تو
رو پڑے اذیت کا حل نکالنے والے
باقی تو سب کھیل تماشا ہوتا ہے
مایوس ہو کے لوٹے ہیں ہر اک دکاں سے ہم
رب عشقِ زلیخا کو یوسف نہ عطا کرتا
مجھے اپنا نہیں اس شخص کا دکھ ہے بچھڑ کے مجھ سے جس کی نظمیں اور غزلیں ادھوری رہ گئی ہونگیں
قسم وہ میرے سر کی کھا رہی ہے
میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا
میں وہ شاغلؔ ہوں کہ ہیں اہلِ صفا میرے مرید صــــوفیانِ بے ریا سے رنـــدِ مے آشـــام تک
پھینکی نہ منورؔ نے بزرگوں کی نشانی دستار پرانی ہے مگر باندھے ہوئے ہے