خداوندِ جہاں آقا و مولا
خداوندِ زماں آقا و مولا خدائے اِنس و جاں آقا و مولا خدائے بیکساں آقا و مولا
معلیٰ
خداوندِ زماں آقا و مولا خدائے اِنس و جاں آقا و مولا خدائے بیکساں آقا و مولا
پریشان و حزیں غمگین بندہ بسانا تجھ کو چاہے قلب و جاں میں ظفرؔ سا درخورِ نفرین بندہ
خدا نے مجھ کو یہ اعزاز بخشا مجھے سرکار کا درباں بنایا محبت میرے دل میں اپنی ڈالی درِ محبوب پر مجھ کو بٹھایا
اِرادوں کو بھی وہ پہچانتا ہے خدا اُس کو بھی پہنچاتا ہے روزی خدا کو جو خدا نہ مانتا ہے
وہ بحر بے کراں لطف و کرم کا وہ ہے کوہِ گراں لطف و کرم کا ظفرؔ وہ ہے جہاں لطف و کرم کا
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
سب کی ہے تم کو خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں
میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں
یہ تو نے بنا ڈالی ہے تصویر کوئی اور
نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے ہوا ہے جب سے دل ناصبور بے قابو کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول […]