جیسے ویرانے سے ٹکرا کے پلٹتی ہے صدا
دل کے ہر گوشے سے آئی تری آواز مجھے
معلیٰ
دل کے ہر گوشے سے آئی تری آواز مجھے
مجھے درپیش مشکل مرحلہ ہے خدا دِل میں ترے جلوہ نما ہے ظفرؔ تو کس خدا کو ڈھونڈتا ہے
خدا فرمانروا حاجت روا ہے خدا ہی قائم و دائم سدا ہے خدا کا نام ہر سُو گونجتا ہے
رہیں فضلِ خدا کے اُس پہ سائے کبھی روئے کبھی وہ مسکرائے سدا حمدِ خدا کے گیت گائے
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
کہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتے
زبوں حالیِ اُمت روح فرسا خداوندا مدد فرما خدارا ظفرؔ مانگے دُعا یہ دست بستہ
چوپال پہ بوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر معلوم ہوا ہے یہ پرندوں کی زبانی تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی چھپے ہوں تو شہر اماں میں بھی نہ بے خوف […]
ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﺪ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﮩﺎﮞ ﮬﻮﮞ ﻣُﺤﺴﻦ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮬﮯ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﺮﻏﻤﺎﻝ مجھے
میں اوروں کو کیا پرکھوں آئنۂ عالم میں محتاج شناسائی جب اپنا ہی چہرا ہے