مٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر

چوپال پہ بوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر معلوم ہوا ہے یہ پرندوں کی زبانی تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی چھپے ہوں تو شہر اماں میں بھی نہ بے خوف […]